ویڈیو: ’میری بات‘ میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور انسانیت کو لاحق ممکنہ خطرات کا تجزیہ
’میری بات‘ میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی، اس کے ممکنہ سنگین خطرات، انسانی ذہانت پر اثرات، حفاظتی اقدامات، قوانین اور اے آئی پر انسانی کنٹرول کے اہم سوالات کا تجزیہ کیا گیا
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں انسانی زندگی میں نئی سہولتیں پیدا کی ہیں، وہیں اس کے ممکنہ خطرات پر بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ ’میری بات‘ کی قسط 16 میں قومی آواز کے ڈیجیٹل ایڈیٹر سید خرم رضا نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور انسانیت کو لاحق ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا۔
پروگرام میں معروف مصنوعی ذہانت کمپنی انتھروپک سے وابستہ اے آئی محقق جیکب کاکسن کے استعفے کا حوالہ دیتے ہوئے اس خدشے پر گفتگو کی گئی کہ اگر اے آئی کی ترقی اسی رفتار سے جاری رہی اور مؤثر حفاظتی حدود قائم نہ کی گئیں تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انتھروپک کے سی ای او ڈیریو اموڈی کے ان خدشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اے آئی سے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے وقت درکار ہے۔
پروگرام میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اے آئی صرف انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے والا ایک ذریعہ رہے گی یا مستقبل میں انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے۔ ماہرین کے مختلف نقطۂ نظر، حفاظتی اقدامات، قوانین اور انسانی کنٹرول پر بھی بات کی گئی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
