طلبہ کے خلاف مظالم برداشت نہیں، تحقیقات کے لیے بنے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی: راہل گاندھی

کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’طلبہ پر وحشیانہ تشدد کے معاملے میں وزیر داخلہ امت شاہ کو ایوان میں آ کر جواب دینا چاہیے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>
i

پارلیمنٹ احاطے میں جمعرات کو اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے شدید احتجاج کیا۔ یہ احتجاج 2 مسائل کو لے کر کیا گیا۔ پہلا نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کا مبینہ وحشیانہ تشدد، اور دوسرا ایودھیا کے رام مندر میں عطیات کی چوری۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کو انصاف ملنا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک آزاد اور اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ دوسری جانب کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ طلبہ پر وحشیانہ تشدد کے معاملے میں وزیر داخلہ امت شاہ کو ایوان میں آ کر جواب دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ ہاؤس کے ’مکر دوار‘ کے سامنے اکٹھا ہوئے اور حکومت کے خلاف زوردار نعرے بازی کی۔ اراکین پارلیمنٹ نے ’چڑھاوا چور، گدی چور‘، ’وزیر داخلہ ایوان میں آؤ‘ اور ’کس نے حکم دیا‘ جیسے نعرے لگائے۔ احتجاج کے دوران اراکین پارلیمنٹ اپنے ساتھ ایک ’دان پیٹی‘ (چندہ کا ڈبہ) بھی لے کر آئے تھے۔ اپوزیشن لیڈران اس ڈبے میں پیسے ڈالتے ہوئے نظر آئے، تاکہ علامتی طریقے سے رام مندر میں ہوئی مبینہ عطیات چوری کی طرف سب کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔


احتجاج میں پرینکا گاندھی کے علاوہ سماجوادی پارٹی کے دھرمیندر یادو، ٹی ایم سی کی ساگریکا گھوش اور جے ایم ایم کی مہوا ماجی سمیت کئی دیگر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ بھی شامل ہوئے۔ تمام اراکین پارلیمنٹ ایک بینر کے پیچھے قطار میں کھڑے ہوئے تھے، جس پر لکھا ہوا تھا ’کس نے حکم دیا‘۔ یہ سوال براہ راست اس حکم کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کے تحت نیٹ پیپر لیک کے خلاف حال ہی میں ہوئے طلبہ تحریک کے دوران سیکورٹی فورسز کو طلبہ کے خلاف سخت اور مہلک طاقت استعمال کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ آخر یہ حکم کس نے دیا، اس کا جواب حکومت کو دینا ہی ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ انڈیا بلاک نے واضح کر دیا ہے وہ حکومت کو 2 معاملوں پر گھیرنے کی تیاری میں ہے۔ پہلا رام مندر میں عطیات کی مبینہ چوری ہے اور دوسرا گزشتہ ہفتہ طلبہ کے احتجاج کے دوران ان پر کی گئی مبینہ وحشیانہ کارروائی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان دونوں معاملوں میں حکومت کو جواب دینا ہوگا اور جو بھی قصوروار ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔