قومی خبریں

راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں کا مرکزی بجٹ پر حملہ، کہا- ’بے روزگاری، کسان اور معیشت کے اصل بحران نظر انداز‘

راہل گاندھی نے مرکزی بجٹ 2025-26 کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں بے روزگاری، کسانوں، گرتی معیشت اور عالمی خطرات کو نظرانداز کیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 2025-26 پیش کیا، جسے حکومت نے ’وکست بھارت‘ کے وژن پر مبنی قرار دیا ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق اس بجٹ میں صحت، دفاع، زراعت، نوجوانوں اور بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں پر توجہ دی گئی ہے تاکہ معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔ تاہم بجٹ پیش ہونے کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور اسے عوامی مسائل سے کٹا ہوا قرار دیا گیا۔

کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی بجٹ پر سب سے سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں بے روزگار نوجوانوں، گرتی ہوئی مینوفیکچرنگ، سرمایہ کاروں کے سرمائے کے انخلا، گھریلو بچت میں تیز گراوٹ اور کسانوں کی بڑھتی ہوئی پریشانیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔

Published: undefined

راہل گاندھی کے مطابق آنے والے عالمی معاشی جھٹکوں کے خطرات کو بھی نظرانداز کیا گیا، جو ملک کی معیشت کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا بجٹ ہے جو اصلاحات سے انکار کرتا ہے اور ہندوستان کے اصل معاشی بحرانوں سے نابلد ہے۔

راہل گاندھی کے علاوہ دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اسی لب و لہجے میں حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ مرکزی بجٹ ایک بار پھر پنجاب کی امیدوں پر پورا نہیں اترا۔ ان کے مطابق نہ کسانوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت یعنی ایم ایس پی پر کوئی ٹھوس اعلان ہوا اور نہ ہی نوجوانوں کے لیے روزگار یا صنعت و ٹیکس میں راحت دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب کے ساتھ مسلسل سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی نے بجٹ کو سمت سے محروم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غریب، خواتین، کسان، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات کے خلاف ہے۔ انہوں نے تعلیم کی سبسڈی میں کمی، معیشت کی کمزوری اور شیئر بازار میں گراوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے دعووں کو گمراہ کن بتایا۔

بہار سے راشٹریہ جنتا دل کی رکنِ پارلیمنٹ میسا بھارتی نے کہا کہ بجٹ میں بہار کا نام تک شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق انتخابی وعدوں کے باوجود ریاست کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا اور وکست بھارت کے دعوے محض نعرہ ثابت ہو رہے ہیں۔

Published: undefined

اتر پردیش کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ بجٹ چند مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق کوئی واضح منصوبہ دکھائی نہیں دیتا۔

کیرالہ کے وزیر پی راجیو نے مرکز پر کیرالہ کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست کی مانگوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تشویش ظاہر کی، جبکہ ڈی ایم کے کی رکنِ پارلیمنٹ کنی موزھی نے ریاستوں کو دیے جانے والے فنڈ میں کمی کو مایوس کن قرار دیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined