قومی خبریں

مغربی ایشیا کشیدگی: مودی کے بیان پر راہل گاندھی کا ردعمل، کہا- ’پارلیمنٹ میں جواب نہیں دے پائیں گے، کمپرومائز ہو گئے‘

راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے مغربی ایشیا سے متعلق بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 25 منٹ کی تقریر میں امریکہ کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا اور حکومت مکمل کنٹرول میں ہے

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر وزیر اعظم نریندر مودی کے لوک سبھا میں دیے گئے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ وہ وڈودرا میں منعقدہ ’آدیواسی حقوق آئین کانفرنس‘ سے خطاب کر رہے تھے جہاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں کھل کر بحث کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور حکومت سمجھوتہ کر چکی ہے۔

Published: undefined

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی تقریر سنی جو تقریباً 25 منٹ پر مشتمل تھی لیکن اس میں امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’میں آپ کو گارنٹی کے ساتھ کہہ رہا ہوں، لکھ کر رکھ لیں، پارلیمنٹ میں ڈبیٹ نہیں کر سکتے، کمپرو مائز ہو گئے ہیں۔‘‘ انہوں نے بار بار یہ سوال دہرایا کہ آیا وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں امریکہ کا نام لیا یا اس کے کردار پر کوئی بات کی اور خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

Published: undefined

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور اہم عالمی مسائل پر آزادانہ مؤقف اختیار کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مغربی ایشیا جیسے حساس معاملے پر ہندوستان کو واضح اور خودمختار موقف اپنانا چاہیے تھا لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں اپنے بیان میں مغربی ایشیا کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بحران تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے سامنے اس جنگ نے غیر متوقع اقتصادی، سلامتی اور انسانی چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔

Published: undefined

وزیر اعظم نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مغربی ایشیا ہندوستان کی توانائی ضروریات کے لیے نہایت اہم خطہ ہے اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، تاہم حکومت متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی اس خطے میں مقیم ہیں، اس لیے وہاں کی صورتحال پر ملک کی تشویش فطری ہے۔

مودی کے مطابق حکومت نے متاثرہ علاقوں میں موجود ہندوستانیوں کی مدد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں، جن میں ایمرجنسی ہیلپ لائنز، کنٹرول رومز اور سفارتی رابطے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ بڑی تعداد میں شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لایا جا چکا ہے اور یہ عمل بدستور جاری ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined