چمولی ٹنل حادثہ: 7 افراد ہلاک، 3 لاپتہ، کانگریس کا بچاؤ کارروائی جنگی پیمانے پر جاری رکھنے کا مطالبہ

اتراکھنڈ کے چمولی میں زیر تعمیر ٹنل میں پانی اور ملبہ بھرنے سے 7 افراد ہلاک اور 3 لاپتہ ہیں۔ 19 افراد کو نکال لیا گیا۔ کانگریس نے جنگی پیمانے پر بچاؤ اور مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں ٹہری ہائیڈرو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ٹی ایچ ڈی سی) کی وشنوگڑھ-پیپل کوٹی پن بجلی منصوبے کی زیر تعمیر سرنگ میں پانی اور ملبہ بھر جانے کے باعث پیش آئے حادثے میں اب تک 7 افراد کی موت ہو گئی ہے، جبکہ 3 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے راحت اور بچاؤ کارروائی جاری ہے۔

ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ افسر این کے جوشی کے مطابق حادثے کے وقت سرنگ میں مجموعی طور پر 22 ملازمین موجود تھے۔ ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی جمعہ کی صبح 9 بجے جاری رپورٹ کے مطابق، رات بھر جاری رہنے والی راحت اور بچاؤ کارروائی کے دوران 19 افراد کو سرنگ سے باہر نکالا گیا۔ حکام کے مطابق لاپتہ تین افراد کی تلاش بدستور جاری ہے۔

یہ حادثہ جمعرات کی شام تقریباً 7 بجے مایاپور، پیپل کوٹی میں واقع پن بجلی منصوبے کی زیر تعمیر سرنگ میں پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سرنگ میں اچانک پانی اور ملبہ داخل ہو گیا، جس سے وہاں کام کر رہے افراد پھنس گئے۔

حادثے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور مختلف امدادی ایجنسیوں نے فوری طور پر بچاؤ کارروائی شروع کی۔ ضلع مجسٹریٹ گورو کمار موقع پر موجود رہ کر امدادی کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکام کو لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام ضروری وسائل اور تکنیکی مدد کا مؤثر استعمال یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔


حادثے پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چمولی ضلع میں ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی سائٹ پر ٹنل حادثے میں جانی نقصان کی خبر سے انہیں گہرا دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی اور سرنگ میں پھنسے تمام افراد کے محفوظ بچاؤ کی دعا کی۔

کھڑگے نے حکام سے مطالبہ کیا کہ بچاؤ کارروائی جنگی پیمانے پر جاری رکھی جائے، ہر زخمی کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے اور حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو فوری اور مناسب معاوضہ دیا جائے۔

کانگریس نے بھی سوشل میڈیا پر حادثے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی مزدوروں کی موت کی خبر انتہائی تکلیف دہ ہے۔ پارٹی نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔

چمولی کا یہ حادثہ نومبر 2023 کے اترکاشی ضلع کے سلکیارا-برکوٹ ٹنل حادثے کی یاد دلاتا ہے۔ 12 نومبر 2023 کو زیر تعمیر سرنگ کا ایک حصہ منہدم ہونے کے بعد 41 مزدور اندر پھنس گئے تھے۔ مرکز اور ریاستی حکومت کی مختلف ایجنسیوں نے بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے تقریباً 17 دن تک بڑے پیمانے پر بچاؤ آپریشن چلایا تھا۔ 28 نومبر کو تمام 41 مزدوروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔