
تصویر سوشل میڈیا
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے مظفرنگر میں ایک فیکٹری سے آزاد کرائے گئے بندھوا مزدوروں کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے متاثرین کو انصاف اور بازآبادکاری فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مظفرنگر میں بندھوا مزدوری کا انکشاف انتہائی چونکا دینے والا ہے۔ ان کے مطابق مزدوروں سے بغیر اجرت کام لینے کے علاوہ ان پر وحشیانہ تشدد بھی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو کتوں سے کٹوایا گیا، بھالوں سے زخمی کیا گیا، کوڑے مارے گئے اور انہیں مویشیوں کا چارہ تک کھانے پر مجبور کیا گیا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ یہ واقعہ انسانی وقار پر براہ راست حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ مزدوروں کو فوری انصاف، مناسب معاوضہ اور بازآبادکاری ملنی چاہیے جبکہ قصورواروں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے اس واقعے کو ملک کی معاشی اور محنت کشوں سے متعلق پالیسیوں سے بھی جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ جب روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں، آمدنی رک جاتی ہے اور محنت کش طبقے کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین اور فلاحی منصوبے کمزور پڑ جاتے ہیں تو غریب اور محروم افراد استحصال کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ محض ایک مجرمانہ واقعہ نہیں بلکہ معاشی بدحالی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ منگل کو مظفرنگر میں انتظامیہ، محکمہ محنت اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران دونا پتّل بنانے والی ایک فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران 13 مزدوروں کو آزاد کرایا گیا، جن میں کم عمر افراد بھی شامل تھے۔ یہ مزدور ہریانہ، پنجاب، راجستھان، جھارکھنڈ، بہار، اتراکھنڈ، اتر پردیش اور نیپال سے تعلق رکھتے تھے۔
Published: undefined
متاثرہ مزدوروں نے الزام لگایا کہ انہیں اچھی تنخواہ اور بہتر سہولیات کا لالچ دے کر فیکٹری میں لایا گیا تھا، لیکن بعد میں ان کے موبائل فون اور شناختی دستاویزات ضبط کر لیے گئے اور انہیں زبردستی کام پر لگایا گیا۔ مزدوروں کے مطابق ان سے طویل اوقات تک مشقت لی جاتی تھی اور معمولی غلطی پر ڈنڈوں، ہنٹر اور دیگر اشیا سے تشدد کیا جاتا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں دن میں صرف ایک بار نمک کے ساتھ روٹی دی جاتی تھی۔
پولیس کے مطابق فیکٹری سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ مرکزی ملزم اور فیکٹری مالک کی تلاش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آزاد کرائے گئے مزدوروں کے جسموں پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں۔ پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس معاملے میں کسی مزدور کی موت یا دیگر افراد کے لاپتا ہونے کے دعووں میں کتنی حقیقت ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined