’نہ ٹیکس دیں گے، نہ بل بھریں گے‘، پاکستان مقبوضہ کشمیر کی عوام نے پاکستانی بربریت کے خلاف کیا اعلانِ جنگ

عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں 1948 کی اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق استصواب رائے ہونا تھا، جسے پاکستان نے اب تک نہیں کرایا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پاکستان میں تشدد، علامتی تصویر</p></div>
i

پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں عوام اور پاکستانی فوج کے درمیان تصادم مسلسل جاری ہے۔ 13 اگست کو عوام کی بغاوت کے 66ویں دن مظاہرین نے پاکستانی ظلم و بربریت کے خلاف ایک ایسا فیصلہ کیا، جو حکومت پاکستان کو گھٹنوں پر لا سکتا ہے۔ مظاہرین نے سول نافرمانی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نہ ہی عوام بجلی کا بل جمع کرے گی، نہ پانی کا بل جمع کرے گی اور نہ ہی گیس کا بل جمع کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی پورے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انکم ٹیکس بھی جمع نہیں کیا جائے گا۔

’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے رکن امتیاز اسلم نے اعلان کرتے ہوئے پی او کے کے لوگوں سے اپیل کی کہ پاکستانی فوج کی بربریت کے خلاف لیے گئے فیصلہ پر کاربند رہیں۔ ساتھ ہی پاکستان مقبوضہ کشمیر کے تاجروں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ پورے خطہ میں سبھی تاجر آج سے اور ابھی سے انکم ٹیکس دینا بند کر دیں۔ اس کے علاوہ مظاہرین کی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی 1948 کی قرارداد کے تحت پاکستان مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی فوج کی بربریت کا اقوام متحدہ نوٹس لے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق پی او کے ایک متنازعہ علاقہ ہے اور جس طرح پاکستانی فوج مسلسل لوگوں پر فائرنگ کر رہی ہے اور کھانے پینے کی اشیا روک رکھی ہیں، ایسے میں پاکستان اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق پی او کے میں 1948 کی اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق استصواب رائے ہونا تھا، جسے پاکستان نے اب تک نہیں کرایا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو پاکستان مقبوضہ کشمیر کے منڈھول میں خواتین نے پاکستانی بربریت کے خلاف مظاہرہ کیا اور بغاوت کے مرکز راولاکوٹ میں 90 ہزار افراد کے ہجوم نے بغاوت کی۔ 27 جولائی سے مظاہرین راولاکوٹ کے چنار چوک اور ڈی چوک پر بیٹھے ہیں، لیکن جگہ کی کمی کی وجہ سے راولاکوٹ کے عیدگاہ میدان میں پاکستانی فوج کے خلاف مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ مظاہرے میں پاکستان کے حامی واحد منتظم سردار عمر نذیر نے کہا کہ جس طرح پاکستانی فوج خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لوگوں کو مار رہی ہے، اسی طرح پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھی مار رہی ہے۔

عمر نذیر نے پاکستان کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ 4,000 مربع کلومیٹر پر مشتمل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ڈھنگ کا اسپتال نہیں ہے، جہاں علاج کرایا جا سکے۔ دوسری طرف جموں و کشمیر میں ہندوستان نے 6 بڑے اسپتال بنوا رکھے ہیں، جن میں پاکستان میں واقع اعلیٰ درجے کے اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (پی آئی ایم ایس)، الشفا جیسے اسپتالوں سے بھی زیادہ سہولیات ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔