ایئر انڈیا ٹربولنس: ایک منٹ میں 300 فیٹ نہیں، بلکہ 676 فیٹ نیچے آ گیا تھا مسافر طیارہ، جانچ میں کچھ نئے انکشافات

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7 سیکنڈز میں تینوں ہائیڈرولک سسٹم فیل ہو گئے، طیارے کی ناک اوپر اٹھ گئی، آٹو پائلٹ منقطع ہو گیا، پائلٹ کا کمانڈ بے اثر رہا، اور پھر سسٹم خود بخود واپس ٹھیک بھی ہو گئے۔

<div class="paragraphs"><p>ایئر انڈیا، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

ایئر انڈیا کی پھوکیت سے دہلی جانے والی جو پرواز 4 اگست کو تکنیکی خرابی کا شکار ہوئی تھی، وہ ایک منٹ میں صرف 300 فٹ نہیں بلکہ 676 فٹ نیچے گری تھی۔ یہ نیا انکشاف ابتدائی تحقیقات کے دوران ہوا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 4 سیکنڈ کے لیے مین کنٹرول سرفیسز (جیسے ایلیویٹر اور ایلیرون) نے مکمل طور پر ایک ساتھ کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اسی ہائیڈرولک فیلیئر کی وجہ سے اسپائلر نے بھی کام کرنا بند کر دیا تھا۔

بتایا جا رہا ہے کہ پرواز کے دوران اچانک تکنیکی خرابی اور طیارے کے رکنے کا اشارہ ملنے اور طیارے کی ناک اوپر اٹھنے سے یہ 36,401 فٹ کی بلندی پر پہنچ گیا۔ یہاں معاون پائلٹ نے ہنگامی اقدامات کے تحت ناک کو نیچے کیا تو یہ 60 سیکنڈ میں 676 فٹ کا غوطہ لگا کر 35,725 فٹ پر آ گیا۔ یہ 60 منزلہ عمارت کے برابر بلندی ہوتی ہے۔ تیزی سے نیچے آنے کی وجہ سے طیارے میں سوار کئی مسافر، جنہوں نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھ رکھی تھی، اپنی سیٹوں سے اچھل کر سامان رکھنے والے کیبن سے جا ٹکرائے۔


’ایئر انڈیا‘ نے اس واقعہ کے بعد ایئربس سے تکنیکی سوالات پوچھے تھے۔ یہ اسی کا جواب ہے جو ایئربس کی انجینئرنگ ٹیم نے بھیجا ہے۔ دستاویز میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ طیارے کے فلائٹ ڈاٹا ریکارڈر یعنی ’بلیک باکس‘ کے ڈاٹا کو ڈیکوڈ کر لیا گیا ہے اور اسی کی بنیاد پر یہ ابتدائی جائزہ تیار کیا گیا ہے۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں 7 سیکنڈز پر مشتمل سیکنڈ بہ سیکنڈ واقعہ درج کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان 7 سیکنڈز میں تینوں ہائیڈرولک سسٹم فیل ہو گئے، طیارے کی ناک اوپر اٹھ گئی، آٹو پائلٹ منقطع ہو گیا، پائلٹ کا کمانڈ بے اثر رہا، اور پھر سسٹم خود بخود واپس ٹھیک بھی ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیقات میں ان چند سیکنڈز کو سب سے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔


ہائیڈرولک سسٹم کیا ہوتا ہے؟

ہوائی جہاز کے پروں اور دم پر کچھ سطحیں ہوتی ہیں جو حرکت کرتی ہیں۔ انہی کی مدد سے طیارہ اوپر نیچے ہوتا ہے اور مڑتا ہے۔ ان سطحوں کو حرکت دینے کی طاقت ہائیڈرولک دباؤ سے ملتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے گاڑی کے بریک میں تیل کے دباؤ سے کام ہوتا ہے۔ ’اے 320‘ فلائٹ میں 3 الگ الگ ہائیڈرولک سسٹم ہوتے ہیں، جنہیں گرین، بلیو اور یلو کہا جاتا ہے۔ 3 سسٹم اس لیے رکھے جاتے ہیں تاکہ ایک فیل ہو جائے تو باقی 2 سے طیارہ چلتا رہے۔ حفاظت کی یہی سب سے بڑی بنیاد ہے، لیکن اس پرواز میں تینوں تقریباً ایک سیکنڈ کے اندر فیل ہو گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ سب سے پہلے گرین ہائیڈرولک سسٹم فیل ہوا۔ اس سے بائیں جانب کے ایلیویٹر اور دونوں جانب کے ایلیرون کا گرین کنٹرول بند ہو گیا، ساتھ ہی دو اسپائلر بھی بند ہو گئے۔ آسان زبان میں طیارے کے سسٹم نے خود بخود بیک اَپ پر سوئچ کر لیا، یعنی وہی کام دوسرے کمپیوٹر اور دوسری لائن سے ہونے لگا۔ یہاں تک سب کچھ ڈیزائن کے مطابق ہی تھا اور طیارہ ایسی صورت حال کے لیے پہلے سے تیار رہتا ہے۔


اس کے اگلے ہی سیکنڈ بلیو اور یلو دونوں سسٹم بھی فیل ہو گئے۔ اب کوئی بیک اَپ باقی نہیں رہا۔ ناک کو اوپر نیچے کرنے والے ایلیویٹر اور طیارے کو جھکانے والے ایلیرون، دونوں نے مکمل طور پر کام کرنا بند کر دیا۔ باقی بچے اسپائلر بھی بند ہو گئے۔ ایئربس کی رپورٹ کے مطابق یہ سطحیں تقریباً 4 سیکنڈ تک کام سے باہر رہیں۔ دباؤ ختم ہوتے ہی یہ سطحیں ہوا کے بہاؤ کے رحم و کرم پر آ گئیں اور خود بخود گھومنے لگیں۔ ایلیرون تقریباً ساڑھے 13 ڈگری تک حرکت کر گئے اور اسی وجہ سے طیارے کی ناک اوپر اٹھ گئی۔

اس کے بعد آٹو پائلٹ ڈس کنیکٹ ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق معاون پائلٹ کی جانب سے ناک نیچے کرنے کا پورا کمانڈ دیا گیا، لیکن کنٹرول سرفیسز کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا کیونکہ وہ اس وقت کام ہی نہیں کر رہی تھیں۔ سیدھے الفاظ میں کہیں تو پائلٹ کمانڈ دے رہا تھا اور طیارہ اس پر عمل نہیں کر رہا تھا۔ یہی وہ حصہ ہے جو اس پورے واقعے کو سنگین بناتا ہے۔ تقریباً 7 سیکنڈ بعد پہلے بلیو سسٹم واپس آیا، کچھ سیکنڈ بعد یلو اور پھر گرین۔ اس کے بعد کنٹرول سرفیسز دوبارہ کام کرنے لگیں اور پائلٹوں نے طیارے کو سنبھال لیا۔ تینوں سسٹم کا اس طرح خود بخود واپس آ جانا بھی تحقیقات کا ایک بڑا سوال ہے، کیونکہ اگر کوئی حصہ واقعی ٹوٹا ہوتا تو وہ خود بخود واپس نہیں آتا۔