
تصویر : جیتوپٹواری ’ایکس‘ ہینڈل
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی ہفتہ کے روز مدھیہ پردیش کے اندور پہنچے اور آلودہ پانی پینے سے بیمار ہوئے لوگوں اور متوفیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے ان کی داد رسی کی۔ اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں حال ہی میں الٹی اور اسہال کی شدید وباء پھیل گئی تھی جسے پانی کی آلودگی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں درجنوں افراد بیمار ہو ئے اور کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔
Published: undefined
کانگریس رہنما راہل گاندھی سنیچر کو صبح 9:30 بجے خصوصی پرواز کے ذریعے دہلی سے روانہ ہوئے اور تقریباً 11:00 بجے اندور ہوائی اڈے پہنچے۔ اس کے بعد وہ براہ راست بمبئی اسپتال پہنچے جہاں انہوں نے زیرعلاج مریضوں سے ملاقات کی۔ اسپتال میں انہوں نے تشویشناک حالت میں داخل مریضوں کے لواحقین سے بات کی اور ان کا حال دریافت کیا۔
Published: undefined
بھاگیرتھ پورہ میں متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ کیا... حکومت میں کوئی نہ کوئی اس کے لیے ذمہ دار ہوگا۔ حکومت کو اس کی ذمہ داری لینی چاہئے.... یہ حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوا ہے۔کانگریس لیڈر نے بھاگیرتھ پورہ علاقے کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے ان خاندانوں سے ملاقات کی جنہوں نے اس سانحہ میں اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ راہل گاندھی نے متاثرہ خاندانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی ذمہ داری طے کی جانا چاہیے۔
Published: undefined
اس موقع پر ریاستی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے دعویٰ کیا کہ آلودہ پانی پینے سے اب تک 24 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 سے 10 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔ پٹواری نے کہا کہ یہ پوری طرح انتظامی غفلت کا معاملہ ہے اور عوام کو صاف پانی فراہم کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔جیتو پٹواری نے یہ بھی کہا کہ کانگریس راہل گاندھی کی موجودگی میں اندور میں پانی کے مسئلہ کے مستقل حل پر بات چیت کرنے کے لیے میٹنگ کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف فوری کارروائی کافی نہیں ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس پالیسی بنائی جائے۔
Published: undefined
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے دورے سے کانگریس پارٹی نے واضح طور پر اشارہ دے دیا ہے کہ پارٹی اس مسئلے کو سیاسی اور سماجی دونوں سطحوں پر اٹھائے گی تاکہ علاقے میں پانی کے مسئلے کےمستقل حل کی سمت میں حکومت پر دباؤ بنایاجاسکے۔ اس دوران علاقائی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ بروقت کارروائی کرتی تو اتنے بڑے سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined