
کورونا وبا سے لڑنے کے لیے وزیر اعظم مودی نے 'پی ایم کیئرس فنڈ' قائم کیا اور اس میں بڑی تعداد میں عام لوگوں نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق عطیہ دیا اور ریلوے نے بھی اس میں 151 کروڑ روپے کا عطیہ دیا۔ مہاجر مزدوروں کو خصوصی ٹرین سے ان کے گھر پہنچانے کے لیے اس فنڈ کا استعمال نہ ہونے پر کئی لوگ ناراض ہیں۔ اس سارے معاملہ میں مہاجر مزدوروں کے لئے مسیحا کی شکل میں سامنے ائیں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اعلان کیا ہے کہ کانگریس سبھی مہاجر مزدوروں کا کرایہ برداشت کرے گی۔ جہاں سونیا گاندھی کے اس اعلان کی تعریف ہو رہی ہے، وہیں اس کے بعد کئی ریاستی حکومتوں نے کرائے کی ادائیگی کا اعلان کیا ہے۔ مودی حکومت اپنی دفاع میں حیلے حوالے پیش کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
سونیا گاندھی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "کانگریس نے محنت کش مزدوروں و کامگاروں کے لئے مفت ریل سفر کے مطالبہ کو بار بار اٹھایا ہے۔ بدقسمتی سے نہ ہی حکومت نے سنا اور نہ ہی ریلوے کی وزارت نے۔ اس لیے کانگریس نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ ریاستی کانگریس کمیٹی کا ہر یونٹ ہر ضرورت مند مزدور و کامگار کے گھر لوٹنے کے لیے ریل سفر کا خرچ برداشت کرے گی۔"
کانگریس صدر سونیا گاندھی کے اس بیان کے بعد پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کا رد عمل بھی سامنے آیا۔ انھوں نے ٹوئٹ کے ذریعہ مودی حکومت سے سوال کیا کہ "جب ہم بیرون ممالک میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کو ہوائی جہاز سے بغیر کرایہ واپس لا سکتے ہیں، جب نمستے ٹرمپ پروگرام میں سرکاری خزانہ سے 100 کروڑ روپے خرچ کر سکتے ہیں، جب وزیر ریل پی ایم کیئرس فنڈ میں 151 کروڑ روپے دے سکتے ہیں تو پھر مزدوروں کو آفت کی اس گھڑی میں مفت ریل سفر کی سہولت کیوں نہیں دے سکتے؟"
لاک ڈاؤن-3 شروع ہو چکا ہے لیکن اس بار اس میں کئی طرح کی نرمی دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ نئے نرم ضوابط کے تحت دہلی اور کئی ریاستوں میں آج صبح شراب کی دکانیں کھولی گئیں لیکن دکانیں کھلنے کے بعد ایک ہنگامہ نظر آیا۔ دہلی کے کئی علاقوں میں دکانیں کھلنے سے پہلے ہی لوگوں نے لمبی لمبی قطاریں لگا لیں۔ سوشل ڈسٹنسنگ یعنی سماجی فاصلہ کی دھجیاں اڑتی رہیں اور جہاں ضرورت پڑی وہاں پولس والوں نے خوب لاٹھیاں بھی چلائیں۔ لیکن دھیرے دھیرے حالات اتنے خراب ہو گئے کہ دوپہر ہوتے ہوتے کچھ علاقوں میں شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم صادر کرنا پڑا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق دہلی، غازی آباد، لکھنؤ، جے پور وغیرہ سے شراب کی دکانوں کے باہر بھیڑ اور لمبی لمبی لائنیں لگنے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ دکانوں کے باہر جب لوگ بے قابو ہونے لگے تو پولیس نے لاٹھی چلاکر ان پر قابو پانے کی کوشش کی اور بعد میں کچھ علاقوں میں دکانیں بھی بند کرنی پڑیں۔ اب یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ شراب کی دکانیں کھولنے سے کورونا وبا کے پھیلاؤ میں کہیں اضافہ نہ ہو جائے کیونکہ حکومت نے دکانیں کھولنے سے پہلے سوشل ڈسٹینسنگ کے تعلق سے ضروری تیاری نہیں کی ہے۔
واضح رہے لاک ڈاؤن کی وجہ سے شراب کے بغیر تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جی رہے لوگوں کی بے تابی اس وقت واضح نظر آئی جب سبھی ریاستوں میں ٹھیکوں کے باہر صبح سے ہی لمبی لمبی قطاریں لگنی شروع ہو گئیں۔ کہیں لوگ دکان کی پوجا کرتے ہوئے نظر آئے تو کہیں لوگوں نے ناریل پھوڑ کر شراب بیچنے کا آغاز کیا۔ کچھ مقامات پر تو دکان کا شٹر کھلتے ہی لوگوں نے زور زور سے تالیاں بجائیں۔
ہندوستان سمیت پوری دنیا اس وقت مہلک کورونا وائرس سے نبرد آزما ہے۔ اس سب کے درمیان ملک میں ایک اور مہلک بیماری افریقی سوائن فلو نے بھی دستک دے دی ہے۔ اس بیماری نے آسام میں اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ ابھی یہ اثر جانوروں پر نظر آ رہا ہے۔ آسام حکومت کے مطابق تقریباً 2500 خنزیروں کی اس فلو یعنی بخار کی وجہ سے موت ہو گئی ہے۔
دراصل اتوار کو آسام حکومت کے مویشی پروری اور مویشی صحت کے وزیر اتل بورا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ریاست میں افریقی سوائن فلو کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ اب تک ریاست کے سات اضلاع کے 306 گاؤں میں یہ بیماری پھیلی ہے۔ اس خطرناک بیماری سے اب تک 2500 خنزیروں کی موت ہو چکی ہے۔
مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج ایک ہندی نیوز پورٹل سے بات چیت کے دوران دہلی اور ممبئی کے باشندوں پر ایک بڑا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں لوگ لاک ڈاؤن پر ٹھیک طریقے سے عمل نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہی ان شہروں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ دیہی علاقوں میں حالات بہتر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
قومی آواز کے قارئین و سامعین سے ضروری گزارش، لاک ڈاؤن کے ضوابط کی پابندی ضرور کریں۔ شکریہ
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔