گلوان کے بعد مودی حکومت کا چین کے تئیں نرم رویہ، کئی شعبوں میں انحصار بڑھا، قومی مفادات کو نقصان: کھڑگے

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ گلوان واقعہ کے بعد مودی حکومت نے چین کے تئیں نرم رویہ اپنایا، جس سے درآمدات، تجارتی خسارہ اور کئی اہم شعبوں میں چین پر ہندوستان کا انحصار بڑھا اور قومی مفادات متاثر ہوئے

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب</p></div>
i

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وادی گلوان کے واقعہ کے بعد چین کے تئیں حکومت کا رویہ نرم ہو گیا، جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت اور کئی اہم تزویراتی شعبوں میں چین پر انحصار بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے قومی مفادات کو نقصان پہنچا اور ہندوستان کی معاشی خود مختاری بھی متاثر ہوئی۔

ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ 6 برس قبل گلوان میں ہندوستان کے 20 فوجیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی نے چین کو ’کلین چٹ‘ دے دی۔ ان کے مطابق ہندوستانی فوجیوں نے غیر معمولی قربانی دی، مگر مرکزی حکومت نے قومی مفادات کے مقابلے میں چین کے تئیں نرم رویہ اختیار کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلوان واقعہ کے بعد چین سے ہندوستان کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق مالی سال 2025۔26 تک چین سے درآمدات میں 101 اعشاریہ 81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خسارہ بڑھ کر 112 اعشاریہ 1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔


کانگریس صدر نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بھی چین پر انحصار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان میں استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹک ادویات کی تیاری کے لیے درکار درآمدات کا چھیاسی فیصد حصہ چین سے آتا ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے برقی گاڑیوں کی صنعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں استعمال ہونے والے چھیاسٹھ فیصد پرزے چین سے درآمد کیے جاتے ہیں، جبکہ ہندوستان میں استعمال ہونے والی تقریباً پچھتر فیصد لیتھیم آئن بیٹریاں بھی بیرون ملک سے آتی ہیں اور ان میں زیادہ تر چین سے درآمد کی جاتی ہیں۔

ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ شمسی توانائی کے شعبے میں بھی چین پر انحصار برقرار ہے۔ ان کا الزام تھا کہ مرکزی حکومت نے حال ہی میں چار چینی کمپنیوں کو سرکاری بجلی منصوبوں کی ٹینڈر کارروائی میں حصہ لینے کی اجازت دے کر چین کے لیے مزید مواقع فراہم کیے ہیں۔

کانگریس صدر نے کہا کہ حکومت کو قومی سلامتی، معاشی خود کفالت اور تزویراتی مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے تاکہ اہم شعبوں میں بیرونی انحصار کم ہو اور ملک کے طویل مدتی مفادات کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔