راجستھان: طلبہ کے داخلوں میں 8.4 لاکھ کی کمی، اشوک گہلوت نے حکومت پر اٹھائے سوالات

اشوک گہلوت نے یو ڈی آئی ایس ای پلس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دو برس میں 8.4 لاکھ سے زائد طلبہ کے داخلے کم ہوئے ہیں، جبکہ نجی اسکولوں میں داخلے سرکاری اسکولوں سے بڑھ گئے ہیں

<div class="paragraphs"><p>اشوک گہلوت / آئی اے این ایس</p></div>
i

جے پور: راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ریاست میں سرکاری تعلیم کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے یو ڈی آئی ایس ای پلس کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو تعلیمی برسوں کے دوران راجستھان میں اسکولوں میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد میں 8.4 لاکھ سے زائد کی کمی آئی ہے، جو ریاست کے سرکاری تعلیمی نظام پر عوام کے کم ہوتے اعتماد کی علامت ہے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ راجستھان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نجی اسکولوں میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد سرکاری اسکولوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام کا سرکاری تعلیمی اداروں پر اعتماد مسلسل کمزور پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے کہ صرف دو برس کے اندر لاکھوں طلبہ تعلیمی نظام سے باہر ہو گئے یا سرکاری اسکولوں کو چھوڑ کر نجی اداروں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس دوران اساتذہ کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ 7.8 لاکھ سے بڑھ کر 7.9 لاکھ سے زیادہ ہو گئی، لیکن ناقص انتظامیہ کے باعث سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں 9.3 لاکھ سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔


سابق وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے بجائے اسے کمزور کیا ہے۔ ان کے مطابق اساتذہ سے تدریسی ذمہ داریوں کے علاوہ دیگر سرکاری کام لینا، اسکولوں کی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی خراب حالت، مرمت اور دیکھ بھال میں تاخیر اور نصاب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ان عوامل میں شامل ہیں جنہوں نے سرکاری تعلیم کو نقصان پہنچایا ہے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ جب وزیر تعلیم کی توجہ تعلیم کے بنیادی مسائل کے بجائے دیگر معاملات پر مرکوز ہو تو ایسے نتائج سامنے آنا فطری ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے دور میں سرکاری تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کی گئی تھیں، جن میں انگریزی ذریعۂ تعلیم والے سرکاری اسکول بھی شامل تھے، لیکن موجودہ حکومت کی غیر دور اندیش پالیسیوں نے ان اقدامات کو کمزور کر دیا۔

انہوں نے ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ راجستھان کے بچوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے۔ یو ڈی آئی ایس ای پلس رپورٹ کے مطابق ریاست میں مجموعی اسکولی اندراج تعلیمی سال 2023-24 میں 1.67 کروڑ تھا، جو 2024-25 میں کم ہو کر 1.63 کروڑ اور اس کے بعد 1.59 کروڑ رہ گیا۔ اس طرح دو برس میں مجموعی طور پر 8.4 لاکھ سے زائد طلبہ کے اندراج میں کمی درج کی گئی ہے۔ خبر لکھے جانے تک راجستھان حکومت کی جانب سے اشوک گہلوت کے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔