
پیش خدمت ہیں آج کی کچھ اہم خبریں
امریکہ سمیت پوری دنیا میں کورونا کا قہر جاری ہے اور اب پوری دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد بارہ لاکھ سےتجاوز کر گئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 65 ہزار سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ اس وبا نے اب خوفناک شکل اختیارکر لی ہے اور کل یعنی ہفتہ کے روز امریکہ میں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں 31 ہزار کا اضافہ ہوا ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 8 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ امریکہ میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
اٹلی میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 15 ہزار کے اوپر پہنچ گئی ہے اور وہاں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار کے اوپر ہے۔ ادھر یوروپ میں اٹلی کے بعد اسپین میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 12 ہزارکے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد اٹلی سے زیادہ ہو گئی ہے اور وہ ایک لاکھ 26 ہزار ہے۔ فرانس میں متاثرین کی تعداد 90 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔ برطانیہ میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے اوپر پہنچ گئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد 41 ہزار سے زیادہ ہے۔
واضح رہے اس بیچ ایران میں مرنے والوں کی تعداد چین سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ایران میں اب تک اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد 3500 سے زیادہ ہوگئی ہے اور متاثرین کی تعداد55 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہندوستان میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ کا رجحان جاری ہے اورحکومت اس کو روکنے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے۔
سینٹرل جیل کوٹ بلوال جموں میں بند قیدیوں نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس برائے جیل کے نام کورونا وائرس کے پیش نظر مشروط رہائی کے لئے ایک مکتوب روانہ کیا ہے۔ مکتوب میں کہا گہا ہے کہ جیل میں اس مہلک ترین وائرس کے پھیلنے کے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں، وہیں دوسری طرف قیدی اپنے احباب و اقارب کے تئیں بھی از حد متفکر ہیں۔ یہ مکتوب جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی نے تمام قیدیوں کی طرف سے لکھا ہے۔ مکتوب کو جیل سپرنٹنڈنٹ نے موصوف ڈائریکٹر جنرل کو بھیج دیا ہے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ ریاست میں تمام مذہب، ذات اور فرقے متحد ہو کر کورونا وائرس کا مقابلہ کریں گے، کیونکہ ان کا مذہب، فرقہ اور ذات کچھ بھی ہو وائرس ایک ہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس طرح متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے، اسی طرح مریضوں کے صحتیاب ہونے کی اچھی خبریں آرہی ہیں۔
شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے افواہ پھیلانے والوں کو سخت الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو معاشرے میں تفرقہ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جعلی ویڈیو اور آڈیو بنانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر، میڈیکل شعبہ سے منسلک دیگر افراد اور صفائی اہلکار کورونا کے خلاف جاری جنگ میں جان کو خطرے میں ڈال کر کام کر رہے ہیں اس لئے ان کی مدد کرنا ملک کے ہر شہری کا فرض ہے۔ پرینکا گاندھی نے اتوار کوٹوئٹ کرکے کہا ہے کہ ’’ہمارے ڈاکٹر، نرسنگ اسٹاف، ٹیکنیشین، صفائی اہلکار کورونا کے خلاف جنگ میں سپاہی ہیں جو جان کو خطرے میں ڈال کر کام کر رہے ہیں۔ ان کی مدد کرنا، انہیں اور ان کے اہل خانہ کو محفوظ رکھنا، ہر طرح سے ان کی حمایت کرنا ہم سب پر فرض ہے۔ ان جانباز سپاہیوں کو پیغام بھیجیں۔‘
ادھر کانگریس نے حکومت سے آج نو سوال پوچھے ہیں جن میں ملک کے طبی اہلکار کے لئے پی پی ای یعنی پرسنل پروٹیکشن اکوپمنٹ کی عدم فراہمی اور وینٹی لیٹرس کی فراہمی کے لئے کوئی ضوابط طے نہ کرنا اور کورونا کے خلاف اس جنگ میں اقدام اٹھانے میں تاخیر کرنا شامل ہیں۔
مسلمانوں کے ذہنوں کو یہ سوال پریشان کر رہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ان کا رمضان کا مہینہ کیسے گزرے گا۔ گزشتہ روز مصری وزیر برائے اوقاف نے اعلان کیا کہ اگر کورونا وائرس کی وباء اسی طرح بدستور موجود رہی تو رمضان المبارک کے دوران بھی مساجد بند رہیں گی۔ مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار نے ایک بیان میں کہا کہ وباء کے خاتمے سے پہلے مساجد کھولنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ مساجد وباء کے ختم ہونے کے بعد ہی کھلیں گی۔
کورونا وائرس کو لے کر پوری دنیا سے پریشان کرنے والی خبریں آ رہی ہیں۔ کورونا کی وجہ سے اب تک دنیا بھر میں تقریباً 45 ہزار افراد کی موت ہو چکی ہے۔ اسی درمیان کورونا وائرس کو لے کر ایک اچھی خبر چین سے آئی ہے۔ چین نے اس وائرس کے لیے ویکسین تیار کی تھی جس کا کِلینکل ٹرائل 17 مارچ سے شروع کیا گیا تھا۔ یعنی ویکسین کا انسانوں پر تجربہ کیا جا رہا تھا۔ خبر ہے کہ اس تجربہ کے نتائج انتہائی مثبت برآمد ہوئے ہیں۔ دراصل چین نے ووہان شہر میں جہاں سے اس وائرس نے پہلی بار کسی انسان کو اپنے انفیکشن کا شکار بنایا تھا وہاں پر اس ویکسین کا کلینکل ٹرائل شروع کیا تھا۔ اس کے لیے 108 لوگوں کو منتخب کیا گیا تھا۔ ان میں سے 14 لوگوں نے ویکسین کے ٹرائل کی مدت پوری کر لی ہے۔ 14 دنوں تک کوارنٹائن میں رہنے کے بعد اب وہ اپنے اپنے گھر بھیج دیئے گئے ہیں۔ ویکسین کے تجربہ کے بعد دیکھا گیا کہ جن 14 لوگوں کو گھر بھیجا گیا ہے اب وہ پوری طرح سے محفوظ اور صحت مند ہیں۔ ان سبھی کو فی الحال میڈیکل نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ اس خبر کے بعد خوشی کا ماحول ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور وہاں اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد تین ہزار سے زائد ہوگئی ہے جبکہ اس وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 45 ہو گئی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے تعلق سے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کوئی بھی شخص اس بیماری کے تعلق سے کسی غلط فہمی میں نہ رہے اور پوری احتیاط رکھے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف ہمیں طویل جنگ لڑنی پڑے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔