علامتی تصویر
گیلین بار سنڈروم (جی بی ایس) کے مریضوں کی تعداد پونے میں 100 کو پار کر گئی ہے۔ وہیں مہاراشٹر محکمہ صحت نے اتوار کو ایک موت کی بھی جانکاری دی ہے، جس کی وجہ جی بی ایس ہو سکتی ہے۔ ادھر ریاستی حکومت نے پونے کے کچھ علاقوں کو لے کر اعلان کیا ہے کہ یہاں کے رہنے والوں کا علاج مفت کیا جائے گا۔ خاص بات ہے کہ جی بی ایس کا علاج بہت مہنگا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 28 اور مریضوں میں جی بی ایس کی تصدیق ہونے کے ساتھ ہی متاثرین کی تعداد 101 تک پہنچ گئی ہے۔ وہیں شولا پور میں مبینہ طور پر اس سے ایک موت کی اطلاع مل رہی ہے۔ فی الحال 16 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں اور 23 معاملے ایسے ہیں جہاں مریضوں کی عمر 50 سے 80 سال کی ہے۔ 9 جنوری کو اسپتال میں داخل ہوئے مریضوں کو پونے کلسٹر کا پہلا معاملہ مانا جا رہا ہے۔
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق جانچوں سے پتہ چلا ہے کہ اسپتال میں بھرتی ہوئے کچھ مریضوں میں کیمپیلو بیکٹر جیجونی بیکٹریا ملا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دنیا بھر کے سبھی جی بی ایس معاملوں میں سے ایک تہائی کی وجہ سی جیجونی ہی ہے۔ ساتھ ہی اس کی وجہ سے سنگین انفیکشن بھی ہو رہے ہیں۔ فی الحال افسران خاص طور سے ان علاقوں میں پانی کے نمونے یکجا کر رہے ہیں جہاں مریض بڑی تعداد میں مل رہے ہیں۔
Published: undefined
ہفتہ کو کھڑک واسلا باندھ کے پاس ایک کنوئیں میں بیکٹیریم ای کولائی کی مقدار زیادہ ملی لیکن افسروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ اس کنوئیں کا استعمال ہوتا ہے یا نہیں۔ وہاں رہنے والوں کو پانی کو اُبال کر پینے اور کھانا کو گرم کرکے کھانے کی صلاح دی گئی ہے۔ خبروں کے مطابق اس علاج میں استعمال کیے جانے والے آئی وی آئی جی انجیکشن کی قیمت 20 ہزار روپے ہے۔
Published: undefined
اخبار کے مطابق 16 جنوری کو اسپتال میں بھرتی ہوئی ایک 68 سال کی خاتون کی رشتہ دار نے بتایا کہ علاج میں کُل 13 انجکشن کا استعمال کیا گیا ہے۔
اتوار کو نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے کہا کہ جی بی ایس کے بارے میں مجھے پتہ چلا ہے کہ اس بیماری کا علاج مہنگا ہے، اس لیے میں نے ضلع انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کے افسروں کے ساتھ میٹنگ کی اور شہریوں کو مفت علاج مہیا کرانے کا فیصلہ کیا۔ پمپری چنچواڑ ضلع کے متاثر لوگوں کا علاج وائی سی ایم اسپتال میں کیا جائے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined