
آئی اے این ایس
مظاہریننئی دہلی: کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے پیر کے روز ایک بار پھر مرکزی حکومت اور بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بہار اور مغربی بنگال میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف اب بھی ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں، جبکہ جنتر منتر کے مظاہروں میں شریک طالبات کے اہل خانہ کو فون کر کے دھمکایا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ حکومت اپنی روش بدلنے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’حد ہو گئی ہے، ابھی بھی طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں، شاید گزشتہ رات یا آج صبح بہار اور مغربی بنگال میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ اپنی عادتوں سے باز نہیں آ رہے۔‘‘
پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ جن طالبات نے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں حصہ لیا تھا، ان کے گھروں پر فون کر کے اہل خانہ کو دھمکایا جا رہا ہے اور پوچھا جا رہا ہے کہ ان کی بیٹیاں احتجاج میں کیوں شریک ہوئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا، ’’اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا ہمارے ملک میں لڑکیاں احتجاج بھی نہیں کر سکتیں؟‘‘
کانگریس رہنما نے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال پر بھی سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ پر پیلیٹ گن اور اے کے-47 جیسے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، حالانکہ وہ دہشت گرد نہیں بلکہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ ہیں۔
ادھر، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے بھی مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کو لوک سبھا میں آ کر یہ جواب دینا چاہیے کہ بہار میں طلبہ کے خلاف اے کے-47 اور دہلی میں پیلیٹ گن کے استعمال کی اجازت کس نے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ ایسے احکامات حکومت کی اعلیٰ سطح سے دیے گئے۔
چنڈی گڑھ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نہتے اور پرامن مظاہرین کے خلاف پیلیٹ گن اور اے کے-47 کا استعمال کسی بھی صورت میں درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج سے نمٹنے کا ایک طے شدہ طریقۂ کار ہوتا ہے، جس کے تحت پہلے دفعہ 144 کا اعلان کیا جاتا ہے، پھر مظاہرین کو منتشر ہونے کی ہدایت دی جاتی ہے، اس کے بعد ضرورت پڑنے پر واٹر کینن، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ فائرنگ کا حکم انتہائی غیر معمولی حالات میں اعلیٰ افسران کی منظوری سے دیا جاتا ہے۔
منیش تیواری نے کہا کہ گزشتہ ہفتے دہلی میں طلبہ پر پیلیٹ گن کا استعمال کیا گیا، جبکہ بہار کی ایک وائرل ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار مظاہرین کا اے کے-47 کے ساتھ پیچھا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے اسے غیر انسانی طرز عمل قرار دیتے ہوئے حکومت سے اس معاملے پر وضاحت اور جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔