زبردست ہنگامہ کے درمیان ’اینٹی پیپر لیک بل‘ لوک سبھا میں پیش، کچھ ہی لمحہ بعد کارروائی 2 بجے تک کے لیے ملتوی
لوک سبھا کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا کی کارروائی بھی ہنگامہ کی وجہ سے 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔ دونوں ہی ایوانوں میں اپوزیشن لیڈران طلبا پر ہوئی پولیس بربریت سے متعلق امت شاہ کا جواب چاہتے ہیں۔

لوک سبھا میں زبردست ہنگامہ کے درمیان آج ’اینٹی پیپر لیک بل‘ (دی پبلک اگزامنیشن پریونشن آف انفیئر مینس امینڈمنٹ بل، 2026) پیش کیا گیا۔ یہ بل وزیر اعظم دفتر (پی ایم او) میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اُس وقت پیش کیا جب اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران دہلی میں طلبا پر ہوئی پولیس بربریت کے خلاف زوردار ہنگامہ اور نعرے بازی کر رہے تھے۔ حکمراں طبقہ اس بل پر بحث چاہتی تھی، لیکن ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے ایوان زیریں کی کارروائی 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی ایوانوں میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دونوں ہی ایوانوں میں اپوزیشن لیڈران طلبا پر ہوئی پولیس بربریت سے متعلق امت شاہ کا جواب چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج صبح جب دونوں ایوانوں کی کارروائی شروع ہوئی تو کچھ ہی دیر بعد 12 بجے تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ جب لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی 12 بجے دوبارہ شروع ہوئی، تو پھر ہنگامہ والے حالات دیکھنے کو ملے۔ لوک سبھا میں چیئر پر دلیپ سیکیا موجود تھے۔ انھوں نے ایوان کو جانکاری دی کہ اسپیکر نے تحریک التوا کے کسی بھی نوٹس کو اجازت نہیں دی ہے۔ یہ سنتے ہی لوک سبھا میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔
لوک سبھا میں جب اینٹی پیپر لیک بل پیش کیا جانا تھا، تو پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’لوک سبھا میں پیپر لیک روکنے کے لیے اتنا اہم بل لے کر آ رہے ہیں، اپوزیشن اس پر بحث میں شامل ہو۔‘‘ انھوں نے کانگریس سمیت سبھی اپوزیشن پارٹیوں سے اس بل پر بحث میں شامل ہونے کی گزارش کی، لیکن بل پیش ہوتے ہی ہنگامہ کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔
راجیہ سبھا میں بھی کچھ ایسے ہی حالات دیکھنے کو ملے۔ کانگریس اراکین پارلیمنٹ نے ایوان بالا کی کارروائی شروع ہوتے ہی مظاہرین طلبا پر لاٹھی چارج کا معاملہ اٹھایا۔ کانگریس کی طرف سے ڈپٹی لیڈر پرمود تیواری نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ سے جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس معاملہ میں اپوزیشن اور برسراقتدار طبقہ کے لیڈران ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہوئے نظر آئے۔ نتیجۂ کار ہنگامہ بڑھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی بھی 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
