قومی خبریں

آلودہ پانی سانحہ: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے میونسپل کارپوریشن اور ضلع انتظامیہ کو لگائی پھٹکار، چیف سکریٹری کو پیشی کا حکم

ہائی کورٹ نے اندور آلودہ پانی سانحہ معاملہ میں 15 جنوری کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ مدھیہ پردیش حکومت کے چیف سکریٹری کو عدالت کے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مدھیہ پردیش ہائی کورٹ اندور بنچ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ اندور بنچ، تصویر سوشل میڈیا

 

مدھیہ پردیش کے بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی پینے سے ہوئی موت کے معاملے پر منگل کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور ڈویژن بنچ میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے اس معاملہ میں 15 جنوری کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ مدھیہ پردیش حکومت کے چیف سکریٹری کو عدالت کے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی میونسپل کارپوریشن اور ضلع انتظامیہ کو مرنے والوں کی تعداد کے متعلق سخت پھٹکار لگائی ہے۔

Published: undefined

معاملہ کی سماعت کے متعلق ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور عرضی گزار رتیش ایرانی نے بتایا کہ اندور ہائی کورٹ میں بھاگیرتھ پورہ میں گندے پانی کی وجہ سے ہوئی اموات اور بڑی تعداد میں بیمار ہوئے لوگوں کے متعلق 3 سے 4 عرضیاں داخل کیا گئی تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ان عرضیوں پر ایک ساتھ اندور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کے چیف سکریٹری کو 15 جنوری کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ عدالت کے سامنے حاضر ہونے کی ہدایت جاری کی۔ ساتھ ہی عدالت نے پورے واقعہ کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے اندور جیسے صاف ستھرے شہر میں اس طرح کے واقعہ پر حیرانی کا بھی اظہار کیا۔

Published: undefined

رتیش ایرانی نے بتایا کہ اندور میونسپل کارپوریشن اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے آلودہ پانی پینے کے سبب مرنے والوں کی تعداد کے متعلق جو اسٹیٹس رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی تھی اس پر متعلقہ محکموں کو پھٹکار لگائی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے 2 جنوری کو عدالت میں 15 صفحات پر مشتمل ایک اسٹیٹس رپورٹ پیش کی تھی۔ اس میں مذکور تھا کہ آلودہ پانی پینے سے 4 افراد کی موت ہوئی ہے، جبکہ قریب 200 افراد مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 35 مریض انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل ہیں۔ سرکاری طور پر اگرچہ 4 اموات کی تصدیق کی گئی ہے، لیکن مختلف رپورٹس میں مرنے والوں کی تعداد 15 تک بتائی جا رہی ہے، جس سے انتظامیہ کے دعوؤں پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

Published: undefined

دوسری جانب اندور میں آلودہ پانی پینے کی وجہ سے لوگوں کی مسلسل ہو رہی موت کو لے کر ریاست کی حکمراں جماعت بی جے پی کو اپوزیشن کانگریس نے ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دلائی جانی چاہیے اور اس کے لیے معاملے کی عدالتی تحقیقات کرائی جانی چاہیے۔ واضح رہے کہ ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے اتوار (4 جنوری) کو اپنے آبائی شہر اندور میں پینے کے آلودہ پانی کے سانحہ کو لے کر پارٹی لیڈران کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’عوام نے اپنا ووٹ دے کر بی جے پی کو اندور کی لوک سبھا سیٹ، تمام 9 اسمبلی سیٹ اور میونسپل کارپوریشن کے انتخاب میں کامیاب بنایا، لیکن بی جے پی حکومت نے اس کے بدلے عوام کو پینے کے آلودہ پانی کا سانحہ دیا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ملک کے سب سے صاف شہر میں آلودہ پانی پینے کے سبب اب تک 16 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

Published: undefined

جیتو پٹواری نے الزام عائد کیا تھا کہ بھاگیرتھ پورا کے لوگ گزشتہ 8-7 ماہ سے مسلسل شکایت کر رہے تھے کہ میونسپل کارپوریش کے نل کنیکشن سے آلودہ پانی آ رہا ہے، لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھاگیرتھ پورا می فی الحال میونسپل کارپوریشن کے ٹینکروں کے ذریعہ جو پانی پہنچایا جا رہا ہے، اس کے بارے میں لوگوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یہ پانی بھی آلودہ ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined