قومی خبریں

ونود کمار سہنی کے قتل پر یوپی میں سیاسی ہنگامہ، گونڈا جا رہے یوپی کانگریس صدر اجے رائے کو پولیس نے حراست میں لیا

یوپی کانگریس صدر اجے رائے کے ساتھ پارٹی کے قومی ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ، پارٹی لیڈر عاصم وقار اور نریندر سنگھ سمیت کئی کارکنان موجود تھے۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر اجے رائے / آئی اے این ایس</p></div>

کانگریس لیڈر اجے رائے / آئی اے این ایس

 

گونڈا کے پرسپور تھانہ کے ریکسڈیا گاؤں کے رہنے والے برتن تاجر اور نشاد سماج کے لیڈر ونود کمار سہنی کے قتل کے بعد اترپردیش کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس قتل کو لے کر نشاد برادری میں شدید غم و غصہ ہے۔ اس دوران متوفی کے اہل خانہ سے ملنے جا رہے یوپی کانگریس کے صدر اجے رائے سمیت پارٹی کے کئی لیڈران کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اجے رائے کی قیادت میں پارٹی کا ایک وفد ونود کمار سہنی کے اہل خانہ سے ملنے گونڈا جا رہا تھا۔ پولیس نے اجے رائے کو بارہ بنکی کے پالس مسولی ٹول پلازا کے پاس روک لیا جس پر وہ برہم ہو گئے۔ پولیس کے ساتھ ان کی بحث بھی ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اجے رائے کے ساتھ پارٹی کے قومی ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ، پارٹی لیڈر عاصم وقار اور نریندر سنگھ سمیت کئی کارکنان موجود تھے۔

حالانکہ پولیس نے اجے رائے کو گونڈا جانے سے پہلے ہی روک دیا۔ کانگریس لیڈر اور کارکنان گونڈا جانے پر بضد رہے۔ اس کے بعد اجے رائے، اکھلیش پرتاپ سنگھ، عاصم وقار اور نریندر سنگھ سمیت کئی کارکنان کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ پولیس کی اس کارروائی پر کانگریس نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ پارٹی نے اترپردیش حکومت اور انتظامیہ کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق اجے رائے اور کارکنان کو مسولی تھانے لے جایا گیا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی روی داس مہروترا نے جنگل راج کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب یوپی کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کے گونڈا دورے کو لے کر پولیس انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہے۔ گونڈا-کرنیل گنج-پرسپور جانے والی سڑک پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ اجے رائے کے دورے سے پہلے کئی کانگریسی لیڈران کو ان کے گھروں پر ہی نظر بند کر دیا گیا ہے اور انہیں پروگرام میں شامل ہونے کی اجازت نہیں مل رہی ہے۔

واضح رہے کہ یوپی میں ونود کمار سہنی کے قتل پر سیاست تیز ہو گئی ہے۔ جمعہ (11 ستمبر) کو یوپی حکومت کے کابینی وزیر ڈاکٹر سنجے نشاد گونڈا میں دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔ دوسری جانب سماجوادی پارٹی کے پسماندہ طبقہ کے ریاستی صدر ڈاکٹر راج پال کشیپ اور کئی سماجوادی پارٹی لیڈران کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ونود کمار سہنی کی جمعرات کو لکھنؤ میں علاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں حملے کی وجہ سوشل میڈیا پوسٹ سے پیدا ہونے والا تنازعہ بتائی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ونود سہنی نے مبینہ طور پر ہندو دیوی دیوتاؤں اور سنتوں کے خلاف کچھ پیغامات پوسٹ کیے تھے، جس سے بعض مقامی افراد ناراض تھے۔ تاہم ان پوسٹس کے اصل مواد اور سیاق کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق بدھ کی شام دکان بند کرکے موٹر سائیکل سے گھر واپس جاتے وقت تقریباً 10 افراد نے 4 موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر ونود سہنی کو راستے میں روک لیا اور حملہ کر دیا۔ شدید زخمی حالت میں انہیں پہلے مقامی صحت مرکز، پھر گونڈا میڈیکل کالج اور بعد ازاں علاج کے لیے کے جی ایم یو لایا گیا، جہاں جمعرات کو ان کی موت ہو گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں تین مشتبہ ملزمان شبھم سنگھ، آکاش سنگھ اور سبھاش سنگھ کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق پرسپور تھانے کے انچارج، شاہ پور پولیس چوکی کے انچارج اور ایک کانسٹیبل کو فرائض میں غفلت کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔