’فری بی کلچر‘ پر شیوسینا یو بی ٹی کا ٹرمپ اور مودی کی سیاست سے موازنہ، کہا ’یہ جمہوریت کے لیے خطرہ‘
’سامنا‘ میں کہا گیا ہے کہ ’’امریکہ میں ٹرمپ اور ہندوستان میں پی ایم مودی کی جانب سے فروغ دیے گئے ’فری بی کلچر‘ نے جمہوری اقدار کو کمزور کیا ہے اور انسانی وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔‘‘
شیوسینا (یو بی ٹی) نے ہفتہ کو انتخابات کے وقت ’فری بی کلچر‘ (مفت تحائف بانٹنے) کی بڑھتی ہوئی عالمی ثقافت پر سخت تنقید کی۔ پارٹی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مجوزہ ’ٹرمپ ڈویڈنڈ‘ منصوبہ اور ہندوستان میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے شروع کی گئی فلاحی اسکیموں کے درمیان مماثلتیں بتائیں۔ پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ میں شائع ایک اداریے میں شیو سینا (یو بی ٹی) الزام عائد کیا کہ امریکہ میں ٹرمپ اور ہندوستان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے فروغ دی گئی ’مفت چیزیں بانٹنے کی ثقافت‘ (فری بی کلچر) نے جمہوری اقدار کو کمزور کیا ہے اور انسانی وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔
اداریے میں کہا گیا ہے کہ جہاں ہندوستان میں ’لاڈکی بہن‘ اور ریاستوں میں اسی طرح کے فلاحی پروگرام چل رہے ہیں، دوسری جانب اگر ریپبلکن کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو ہر بالغ امریکی کے بینک اکاؤنٹ میں 5,000 ڈالر جمع کرنے کی ٹرمپ کی تجویز بھی انتخابات کے وقت ووٹروں کو لبھانے والا قدم ہی ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے مطابق ٹرمپ کی مجوزہ ’ٹرمپ ڈویڈنڈ‘ براہ راست نقد رقم کی منتقلی کے ذریعے انتخابی حمایت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا منصوبہ نافذ کرنے سے امریکی خزانے پر ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا بوجھ پڑے گا، جبکہ ملک کا قومی قرض پہلے ہی 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور سالانہ مالیاتی خسارہ 1.8 ٹریلین ڈالر ہے۔
اداریے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ کے اعلان سے ان کی اپنی پارٹی میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے اور اس تجویز کے مالی اثرات اور اسے نافذ کرنے کے حوالے سے ظاہر کی جانے والی تشویش کی خبروں کا ذکر کیا گیا۔ ’سامنا‘ میں کہا گیا کہ ’’اس طرح کی نقد امداد تقسیم کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ جیسے ہی ٹرمپ نے 5,000 ڈالر کی ادائیگی کا اعلان کیا، ان کی اپنی پارٹی کے رہنما اور وزراء حیران رہ گئے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر مایوسی کا اظہار کیا اور یہ کہہ کر معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی کہ رقم صرف سخت جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی کے بعد ہی تقسیم کی جائے گی، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ دولت مند بالغ افراد اس کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ یہ اسی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے جسے ہندوستانی حکومت استعمال کرتی ہے، پہلے بڑے بڑے اعلانات کرنا، پھر شرائط اور افسر شاہی کی پیچیدگیوں کا استعمال کر کے ان پر عمل درآمد میں تاخیر کرنا۔‘‘
ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے شیوسینا (یو بی ٹی) نے وزیر اعظم مودی کے 2014 کے اس وعدے کا ذکر کیا جس میں ہر ہندوستانی کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کرنے کی بات کہی گئی تھی، یہ وعدہ اب تک پورا نہیں ہوا ہے۔ پارٹی نے ملک بھر کی ریاستی حکومتوں کی جانب سے اعلان کردہ متعدد فلاحی اسکیموں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے پروگراموں کا استعمال تیزی سے انتخابی حربوں کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ہندوستان میں بے روزگاری، مہنگائی اور کسانوں کی پریشانی جیسے اہم مسائل اب بھی حل نہیں ہوئے ہیں، جبکہ امریکہ میں بھی ٹرمپ انتظامیہ گھریلو چیلنجوں سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ’مفت چیزیں دینے کی سیاست‘ ایک عالمی رجحان بن گئی ہے، اداریے میں الزام عائد کیا گیا کہ حکومتیں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے پیسے سے فراہم کی جانے والی مفت سہولیات پر زیادہ انحصار کر رہی ہیں۔ اس میں نتیجہ نکالا کیا گیا کہ ایسی سیاست، خواہ ہندوستان میں ہو یا امریکہ میں، جمہوری اصولوں سے سمجھوتہ کرتی ہے اور عوام کے تئیں جواب دہی کو کم کرتی ہے۔ اداریے میں دعویٰ کیا گیا کہ ’’مودی اور شاہ ہندوستان میں جو کر رہے ہیں، ٹرمپ امریکہ میں وہی دوہرا رہے ہیں۔ عوام کے پیسے کا استعمال کرنا، مفت چیزیں تقسیم کرنا اور انتخابات میں جیت حاصل کرنا۔‘‘ اس میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ مستفیدین الگ الگ ہوں، لیکن اس کے پیچھے سیاسی سوچ ایک جیسی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
