
احتجاج کے دوران این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری
وارانسی: نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کا ’منریگا بچاؤ سنگرام مارچ‘ اتوار (11 جنوری) کو وارانسی میں بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے لنکا گیٹ سے وزیر اعظم دفتر تک مقرر تھا۔ اس مارچ کی قیادت این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری کر رہے تھے۔ اترپردیش کے مختلف اضلاع اور یونیورسیٹیوں سے آئے طلبہ نے اس میں حصہ لیا اور مودی حکومت کے ذریعہ منریگا کو کمزور اور ختم کرنے کی منظم کوششوں کے خلاف متحد ہو کر اپنا احتجاج درج کرایا۔
Published: undefined
گزشتہ کل سے ہی وارانسی اور شمالی اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ ہاسٹلوں اور طلبہ کی رہائش گاہوں پر چھاپے ماری کی جا رہی تھی۔ کئی طلبہ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا، جبکہ دیگر طلبہ کو جبراً اٹھا کر تھانے میں لے جایا گیا، جس سے خوف اور جبر کا ماحول بنایا گیا۔ مودی-یوگی حکومت اور پولیس مشینری نے مشترکہ طور پر ریاست کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی میں بدل دیا ہے۔ اس کے باوجود این ایس یو آئی کے قومی صدر سمیت سینکڑوں کارکنان اس مارچ میں شامل ہوئے۔
Published: undefined
این ایس یو آئی میڈیا ڈیپارٹمنٹ نے پریس ریلیز میں یہ بھی کہا کہ اس مکمل طور سے پرامن اور جمہوری مارچ کے دوران پولیس نے واضح سیاسی ہدایات کے تحت این ایس یو آئی کے طلبہ اور کارکنان پر بے دردی سے لاٹھی چارج کیا۔ اس کے نتیجے میں این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری اور ریاستی سطح کے کئی عہدیدار اور تقریباً 100 این ایس یو آئی کارکنان زخمی ہوئے، گرفتار کیے گئے کارکنان وارانسی کے مختلف تھانوں میں بھیج دیے گئے۔ ورون چودھری کو گرفتار کر کے پہلے وارانسی کے لنکا تھانے میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے انہیں لنکا سے روہنیا تھانے میں منتقل کر دیا۔
Published: undefined
این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری نے کہا کہ ’’منریگا صرف ایک سرکاری منصوبہ نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستان کے بہوجن سماج کے لیے لائف لائن اور بقا کا سوال ہے۔ وزیر اعظم کے اپنے لوک سبھا حلقہ وارانسی میں منریگا پر پرامن احتجاج کے جواب میں مودی حکومت نے لاٹھی چارج اور جبر کا راستہ اختیار کیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہ ’’یہ طلبہ، نوجوانوں اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کی جائز آوازوں سے اقتدار کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
Published: undefined
ورو ن چودھری کا کہنا ہے کہ ’’یہ بالکل واضح ہے کہ کوئی لاٹھی، کوئی گرفتاری اور کوئی جبر دلت اور بہوجن سماج کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔ میں اس جدوجہد میں ثابت قدم ہوں۔ تاناشاہوں کو پیغام ہے، جہاں بھی ناانصافی جڑ پکڑے گی وہاں سے ہماری مزاحمت اٹھے گی اور انقلاب لکھا جائے گا۔‘‘ این ایس یو آئی پولیس کی اس غیر آئینی بربریت کی پرزور مذمت کرتی ہے اور منریگا کی حفاظت اور روزگار کے آئینی حق کی حفاظت کے لیے ملک گیر تحریک کو مزید تیز کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined