
پی ایم مودی
سنسد ٹی وی اسکرین شاٹ
پارلیمنٹ میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران زبردست ہنگامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خاص طور سے لوک سبھا میں گزشتہ 2 دنوں میں ہنگامہ کے سبب کئی بار کارروائی ملتوی ہوئی، اور آج تو وزیر اعظم نریندر مودی کی مقرر کردہ 5 بجے کی تقریر بھی نہیں ہو پائی۔ ایوانِ زیریں میں شدید ہنگامہ کے سبب تیسرے دن بھی صدر جمہوریہ کی تقریر پر شکریہ کی تحریک پر بحث ٹھیک طرح نہیں ہو سکی۔ وزیر اعظم مودی شام 5 بجے لوک سبھا میں ’شکریہ کی تحریک‘ پر بحث کا جواب دینے والے تھے، جو کہ ہنگامہ کی نذر ہو گیا۔
Published: undefined
لوک سبھا کی کارروائی جب آج 5 بجے شام میں شروع ہوئی تو اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پوسٹر لے کر چیئر کے قریب پہنچ گئے۔ کانگریس، ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے کچھ اراکین تیزی سے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کے پاس بھی پہنچ گئے۔ یہ ناراض تھے کیونکہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو کچھ بھی بولنے کا موقع نہیں دیا جا رہا تھا۔ کچھ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو، انوراگ ٹھاکر اور اشونی ویشنو سے بات چیت کرنی چاہی، لیکن برسراقتدار طبقہ بھی ہنگامہ آرائی پر آمادہ دکھائی دیا۔ ہنگامہ دھیرے دھیرے بڑھتا گیا اور ایوان کو چلا رہی سندھیا رائے نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ایم مودی ’شکریہ کی تحریک‘ پر بحث کا جواب دینے ایوان میں داخل بھی نہیں ہو پائے۔
Published: undefined
آج جب ایوان کی کارروائی 5 بجے شروع ہونے کے بعد سندھیا رائے نے پی پی چودھری سے بولنے کے لیے کہا، تو اپوزیشن اراکین تختیاں لے کر ویل میں پہنچ گئے اور نعرہ بازی کرنے لگے۔ اپوزیشن لیڈران کئی باتوں کو لے کر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے تھے۔ برسراقتدار طبقہ کے لیڈران بھی کئی بار اپنی آواز بلند کرتے نظر آئے۔ آج دن بھر اسی طرح کی رخنہ اندازی دیکھنے کو ملی۔ پہلے تو آج صبح کارروائی 12 بجے تک کے لیے ملتوی ہوئی تھی۔ اس کے بعد 2 بجے، اور پھر 5 بجے تک کے لیے ملتوی کی گئی تھی۔ 5 بجے کے بعد جب حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آئے، تو کل صبح 11 بجے تک کے لیے ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined