
راہل گاندھی / بشکریہ ایکس / @INCIndia
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ وزیر اعظم میں آج ایوان میں آنے کی ہمت ہوگی، کیونکہ اگر وہ آتے ہیں تو وہ خود ان کے پاس جا کر جنرل منوج نرونے کی کتاب پیش کریں گے تاکہ ملک کے سامنے سچائی آ سکے۔ راہل گاندھی کا یہ بیان ہند-چین اور لداخ کی صورت حال سے متعلق ان کے بیان پر جاری حزب اقتدار کی ہنگامہ آرائی کے بعد سامنے آیا ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے کہا کہ یہ کتاب سابق فوجی سربراہ جنرل منوج نرونے کی ہے، جس میں لداخ کے واقعات کی تفصیل درج ہے۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ اس کتاب کا حوالہ نہیں دے سکتے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس بحران کے دوران وزیر اعظم نے کیا موقف اختیار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب چینی ٹینک کیلاش رِج تک پہنچ گئے تھے تو جنرل نرونے نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے رابطہ کیا مگر انہیں فوری جواب نہیں ملا۔ بعد میں انہیں بتایا گیا کہ ’ٹاپ‘ سے ہدایت ہے کہ اگر چینی فوج پیش قدمی کرے تو بغیر اجازت گولی نہ چلائی جائے۔
Published: undefined
راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ جنرل نرونے اور فوجی قیادت ٹینکوں پر کارروائی کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ ہندوستانی حدود میں داخل ہو چکے تھے لیکن وزیر اعظم کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ ’جو مناسب سمجھو وہ کرو‘۔ ان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور فیصلہ کن قیادت فراہم نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل نرونے نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس وقت خود کو تنہا محسوس کیا کیونکہ پورا نظام ان کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آیا۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے زور دے کر کہا کہ ملک کے ہر نوجوان کو اس کتاب کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے تاکہ وہ جان سکیں کہ سرحدی بحران کے وقت کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم ایوان میں آئیں گے تو وہ ذاتی طور پر جا کر انہیں یہ کتاب دیں گے۔
قبل ازیں، کانگریس اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ احاطہ میں احتجاج بھی کیا۔ اراکین نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی کو اہم قومی مسئلہ اٹھانے سے روکا جا رہا ہے اور اعتراض کرنے پر اپوزیشن کے ارکان کو معطل کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی کہا کہ پارلیمنٹ جمہوریت کا مندر ہے اور وہاں چین، پاکستان اور خارجہ پالیسی جیسے معاملات پر کھلی بحث ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی آواز دبانا جمہوری روایت کے منافی ہے اور حکومت کو مکالمہ سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
پارلیمنٹ میں اس معاملہ پر ہنگامہ آرائی اور سیاسی کشیدگی بدستور جاری ہے، جبکہ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو ایوان اور عوام دونوں کے سامنے اٹھاتی رہے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined