شرد پوار کا چینی کی صنعت کے لیے حکمت عملی پر مبنی راحت کا مطالبہ، برآمدی پابندی پر مرکز کو بنایا نشانہ

شرد پوار نے چینی کی برآمدات پر پابندی کو مہاراشٹر کے امدادی شعبے کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایندھن، دیہی معیشت اور حکومتی اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے

شرد پوار کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

پونے: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے صدر شرد پوار نے چینی کی برآمدات پر عائد پابندی کے معاملے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام خاص طور پر مہاراشٹر کے امدادی شعبے اور چینی کی صنعت کے لیے معاشی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پونے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ ریاست اس وقت اضافی چینی پیداوار کی صورتحال سے گزر رہی ہے اور ایسے وقت میں برآمدات پر پابندی عائد کرنا چینی کارخانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چینی ملوں کو کسانوں کو حال ہی میں بڑھائی گئی مناسب اور فائدہ مند قیمت یعنی ایف آر پی کی ادائیگی کے لیے مستقل مالی بہاؤ درکار ہوتا ہے لیکن پابندی کی وجہ سے یہ عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ چینی کے 2026 کے سیزن کو بچانے کے لیے حکومت فوری طور پر اس پابندی کو واپس لے۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو چینی ملیں مالی بحران کا شکار ہو سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر کسانوں اور دیہی معیشت پر پڑے گا۔


شرد پوار نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے حال ہی میں داخلی سطح پر کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیل پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی نظم و ضبط اپنی جگہ اہم ہے لیکن حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ پالیسی کی ناکامیوں کا بوجھ عام شہریوں پر نہ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ ایندھن اور خوردنی تیل کی قیمتیں اب بھی دیہی معیشت کے لیے تشویش کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق اگر کفایت شعاری کی بات کی جا رہی ہے تو اسے محض نمائشی اقدامات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مستقل اور سنجیدہ طریقے سے نافذ کیا جانا چاہیے۔

شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ حالیہ قومی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم کو ایک کل جماعتی اجلاس طلب کرنا چاہیے تاکہ اہم معاملات پر وسیع مشاورت ہو سکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایندھن کی بچت اتنی اہم تھی تو اس پر پہلے سنجیدگی سے غور کیوں نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک اس سے قبل بھی مشکل حالات سے گزر چکا ہے اور حکومت کے پاس انتظامی اخراجات کم کرنے کے کئی راستے موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر رہنما اپنے قافلے کم کر رہے ہیں یا علامتی اقدامات کر رہے ہیں تو انہیں وقتی مظاہرے کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنانا چاہیے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔