نیٹ پیپر لیک معاملہ: عدالت نے پانچ ملزمان کو سات روزہ سی بی آئی تحویل میں بھیجا

نیٹ یو جی 2026 کے پیپر لیک معاملے میں گرفتار پانچ ملزمان کو عدالت نے سات دن کی سی بی آئی تحویل میں بھیج دیا۔ جانچ میں واٹس ایپ اور ٹیلیگرام چیٹس سے اہم ڈیجیٹل شواہد ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نئی دہلی: نیٹ یو جی 2026 امتحان میں دھاندلی اور پیپر لیک معاملے میں گرفتار پانچ ملزمان کو راؤز ایونیو عدالت نے سات دن کے لیے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ جمعرات کو تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سی بی آئی نے مزید پوچھ گچھ اور معاملے کی گہرائی سے جانچ کے لیے ریمانڈ کی مانگ کی تھی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ تمام ملزمان کو ایف آئی آر کی نقل فراہم کی جائے اور گرفتاری کی بنیادوں کو واضح طور پر بتایا جائے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانونی عمل کے دوران ملزمان کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے۔

سی بی آئی نے عدالت میں بتایا کہ ابتدائی جانچ کے دوران واٹس ایپ اور ٹیلیگرام چیٹس سے ایسے شواہد حاصل ہوئے ہیں، جن میں وہی سوالات شامل ہیں جو نیٹ امتحان میں پوچھے گئے تھے۔ جانچ ایجنسی کے مطابق تقریباً 100 سوالات امتحان سے پہلے ہی لیک کر دیے گئے تھے۔ ان سوالات کے ساتھ جوابی کلید بھی فراہم کی گئی تھی تاکہ امیدواروں کو درست جوابات تک رسائی دی جا سکے۔


مرکزی تفتیشی ایجنسی نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک منظم اور وسیع سازش کا معاملہ معلوم ہوتا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کی جانچ ابھی باقی ہے۔ سی بی آئی کے مطابق اس پورے نیٹ ورک میں سرکاری ملازمین، عوامی عہدوں پر فائز افراد اور پرنٹنگ پریس سے وابستہ لوگوں کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ ایجنسی کا کہنا تھا کہ ملزمان سے مزید پوچھ گچھ کے ذریعے اس پورے سلسلے میں شامل دیگر افراد تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سی بی آئی کے مطابق ملزمان نے فزکس، کیمسٹری اور بایولوجی کے سوالات لیک کیے تھے تاکہ بعض امیدواروں کو زیادہ نمبر حاصل کرنے میں مدد دی جا سکے اور انہیں جے پور کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ دلایا جا سکے۔

جانچ ایجنسی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ یش یادو کو ٹیلیگرام کے ذریعے سوالیہ پرچہ بھیجا گیا تھا، جبکہ شبھم نے اسے سوالات دستیاب کرائے تھے۔ سی بی آئی کے مطابق یش یادو کا موبائل فون بھی ضبط کر لیا گیا ہے، جس سے کئی اہم ڈیجیٹل شواہد حاصل ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ملزمان کے وکیل نے سی بی آئی کی کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاریاں غیر قانونی ہیں اور گرفتاری کے وقت ملزمان کو گرفتاری کی وجوہات سے مناسب طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے پانچوں ملزمان کو سات دن کے لیے سی بی آئی تحویل میں بھیجنے کا حکم جاری کر دیا۔ معاملے کی مزید جانچ جاری ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔