صرف 10 روپے میں انڈیا گیٹ سے سرکاری دفاتر تک کا سفر، دہلی میں پہلی بار کل سے دوڑے گی ’ہائیڈروجن بس‘

ہائیڈروجن بس چلانے کا فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب پی ایم مودی نے ہم وطنوں سے پٹرول اور ڈیزل کی کھپت کو کم کرنے، میٹرو اور پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کرنے اور کار پولنگ اپنانے کی اپیل کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ہائیڈروجن بس (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

دہلی والوں کے لیے ایک بڑی خبر ہے، اب راجدھانی کی سڑکوں پر ہائیڈروجن سے چلنے والی بسیں ڈورتی نظر آئیں گی۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) جمعہ (15 مئی) سے سنٹرل وِسٹا علاقے میں نئی ہائیڈروجن بس سروس شروع کرنے جا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان بسوں میں سفر کرنے کے لیے مسافروں کو 10 سے 15 روپے خرچ کرنے ہوں گے۔

یہ بس سروس خاص طور پر سرکاری ملازمین اور سنٹرل وِسٹا علاقے میں آنے جانے والے لوگوں کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔ بسیں سنٹرل سکریٹریٹ اور سیوا تیرتھ میٹرو اسٹیشن کے درمیان چلیں گی اور راستے میں کئی بڑے سرکاری دفتروں اور اہم مقامات کو کور کریں گی۔ ان میں انڈیا گیٹ، وگیان بھون، نرمان بھون، کرتویہ بھون، اکبر روڈ اور نیشنل اسٹیڈیم شامل ہیں۔


واضح رہے کہ انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ نے ڈی ایم آر سی کو 2 ہائیڈروجن بسیں فراہم کی ہیں۔ ہر بس میں 35 مسافروں کے بیٹھنے کا انتظام ہے۔ مسافروں کی حفاظت کے لیے بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے اور جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم لگائے گئے ہیں۔ یہ بس سروس پیر سے جمعہ تک چلے گی۔ صبح 8:30 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک اور شام 3:30 بجے سے 6:30 بجے تک لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ہر 30 منٹ میں بس دستیاب ہوگی۔ ٹکٹ کی ادائیگی یو پی آئی، نقد اور این سی ایم سی کارڈ کے ذریعے کی جا سکے گی۔

قابل ذکر ہے کہ ہائیڈروجن بس چلانے کا فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ہم وطنوں سے پٹرول اور ڈیزل کی کھپت کو کم کرنے، میٹرو اور پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کرنے اور کار پولنگ اپنانے کی اپیل کی ہے۔ ڈی ایم آر سی کا کہنا ہے کہ یہ پہل دہلی کو آلودگی سے پاک اور گرین ٹرانسپورٹ کی سمت میں آگے لے جانے کا ایک بڑا قدم ہے۔ آنے والے وقت میں اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو راجدھانی میں ایسی مزید بسیں بھی شروع کی جا سکتی ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔