قومی خبریں

انتخاب ختم ہوتے ہی پٹرول 18 روپے اور ڈیزل 35 روپے تک ہو سکتا ہے مہنگا، خسارے میں ہیں کمپنیاں

سرکاری ریونیو میں تیل پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی کا حصہ جو 2017 میں 22 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس قیمتوں کو مزید کم کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔

پٹرول ڈیزل / یو این آئی
پٹرول ڈیزل / یو این آئی 

غیر ملکی بروکریج فرم ’میکویری‘ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں آئی بھاری تیزی کا بوجھ اب گھریلو تیل کمپنیوں (او ایم سی) کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں، لیکن اس سے کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں واراننگ دی گئی ہے کہ مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخاب ختم ہوتے ہی کمپنیاں قیمتوں میں بڑا اضافہ کر سکتی ہیں۔

Published: undefined

گزشتہ 46 دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ 27 فروری کو جو خام تیل 73 ڈالر فی بیرل پر تھا وہ 19 مارچ کو 120 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور فی الحال 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر کا اضافہ ہندوستانی کمپنیوں کے نقصان میں 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرتا ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود قیمتیں نہ بڑھنے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو پٹرول پر 18 روپے اور ڈیزل پر 35 روپے فی لیٹر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ یہ نقصان 2400 کروڑ یومیہ تک پہنچ گیا تھا، جو ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے کی تخفیف کے بعد اب 1600 کروڑ روپے یومیہ پر ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ سرکاری ریونیو میں تیل پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی کا حصہ جو 2017 میں 22 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس قیمتوں کو مزید کم کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔

Published: undefined

ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، جس میں سے 45 فیصد مشرق وسطیٰ اور 35 فیصد روس سے آتا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ یہ مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اگست 2022 کے بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن کے پار نکل گئی ہے۔ ہندوستان کے پڑوسی ممالک پاکستان، نیپال اور سری لنکا پہلے ہی اپنی گھریلو قیمتوں میں بھاری اضافہ کر چکے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان میں انتخاب کے بعد قیمتوں میں اضافے کا امکان کافی قوی نظر آ رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined