
ویڈیو گریب
دہلی میں ایل پی جی سلنڈر کی کمی کے درمیان اب حکومت پائپ سے ملنے والی گیس (پی این جی) پر خاصا زور دے رہی ہے۔ دہلی حکومت کے فوڈ سپلائی اور کنزیومر افیئر ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل کمشنر ارون کمار جھا نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ’’جن علاقوں میں پی این جی کی سہولت پہنچ چکی ہے، وہاں رہنے والے لوگ بلا تاخیر کنکشن لے لیں۔‘‘
Published: undefined
پریس کانفرنس کے دوران ارون کمار جھا نے کہا کہ ’’حکومت کا مقصد ہر گھر تک پی این جی پہنچانا ہے۔ جن لوگوں کے علاقوں میں پی این جی دستیاب ہے، لیکن وہ پھر بھی کنکشن نہیں لیتے تو آنے والے وقت میں ان کے ایل پی جی کنکشن پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘‘ ارون کمار جھا کے مطابق حکومت ابھی تیزی سے پی این جی کا جال بچھا رہی ہے۔ جہاں پائپ گیس پہنچ چکی ہے وہاں کے لوگ جلد از جلد ’پی این جی‘ کنکشن لے لیں۔ مستقبل میں اگر کوئی شخص ’پی این جی‘ نہیں لیتا تو اس کی ایل پی جی سلنڈر کی سپلائی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
حکومت نے کالابازاری روکنے کے لیے بھی بڑا قدم اٹھایا ہے۔ محکمہ نے ایل پی جی سلنڈروں کی ذخیرہ اندوزی اور کالابازاری پر روک لگانے کے لیے کنٹرول روم شروع کر دیا ہے۔ اب دہلی پولیس آئل کمپنیوں کے ساتھ مل کر چھاپے ماری کرے گی۔ ارون کمار جھا نے بتایا کہ جمعرات کو علی پور اور بوانا علاقے میں کارروائی کر تقریباً 100 سلنڈر برآمد کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دہلی میں گیس کی سپلائی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی ہے، لیکن سلنڈر پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ افسران کے مطابق گیس گوداموں اور ایجنسیوں پر پرانا بقایا بڑھ گیا ہے، اس لیے کئی لوگوں کو سلنڈر ملنے میں زیادہ وقت لگ رہا ہے۔
Published: undefined
اس درمیان دہلی حکومت نے 4 لاکھ نئے پی این جی کنکشن دینے کا ہدف رکھا ہے۔ وزیر برائے شہری ترقی آشیش سود نے افسران کو ’مشن موڈ‘ میں کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت کے مطابق دہلی میں تقریباً 18 لاکھ گھروں تک پی این جی پہنچانے کا انتظام ہے۔ ان میں سے 14 لاکھ گھروں میں پہلے ہی گیس پائپ پہنچ چکی ہے اور اب بقیہ 4 لاکھ گھروں تک اسے جلد پہنچانے کی تیاری ہے۔
Published: undefined
دہلی میں یہ صورتحال اس لیے بن گئی ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث ’آبنائے ہرمز‘ سے آنے والی گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد ایل پی جی باہر سے درآمد کرتا ہے اور اس میں سے تقریباً 90 فیصد گیس اسی سمندری راستے سے آتی ہے۔ اس کے متاثر ہونے کے سبب پورے ملک میں ایل پی جی کی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ گھریلو رسوئی گیس کی سپلائی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ریفائنریوں میں گیس کی پیداوار بڑھا دی گئی ہے اور گھروں کے لیے سلنڈر بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود دہلی سمیت کئی شہروں میں لوگ گیس ایجنسیوں کے چکر لگا رہے ہیں اور انہیں سلنڈر کے لیے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگر زیادہ لوگ پی این جی پر چلے جاتے ہیں تو سلنڈر پر دباؤ کم ہوگا اور جن علاقوں ابھی پائپ گیس نہیں پہنچی ہے، وہاں کے لوگوں کو آسانی سے ایل پی جی مل سکے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined