قومی خبریں

پون کھیڑا کا مودی حکومت پر شدید حملہ، شنکراچاریہ کے ساتھ بدسلوکی اور مذہب کے نام پر سیاست کا الزام

کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے دہلی میں پریس بریفنگ کے دوران مودی حکومت پر مذہب کے نام پر سیاست، شنکراچاریہ کے ساتھ بدسلوکی، مہاکمبھ میں کُویوستھا اور اقتدار و دولت کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا / ویڈیو گریب</p></div>

پون کھیڑا / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی میں کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران پارٹی کے سینئر ترجمان پون کھیڑا نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی 12 برس سے اقتدار میں ہیں اور جن لوگوں کی مدد سے وہ اقتدار تک پہنچے، آج انہی کے ساتھ بدسلوکی ہو رہی ہے، جسے پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ پون کھیڑا کے مطابق اقتدار میں آنے سے پہلے نریندر مودی نے خود کو ہندوؤں کا مسیحا قرار دیا اور مسلمانوں کے خلاف سخت زبان استعمال کی، جس کے سہارے 12 برس تک سیاست کی گئی لیکن عملی طور پر اس سیاست میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی۔

Published: undefined

انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف وزیر اعظم مہنگے طرزِ زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، قیمتی چیزیں استعمال کر رہے ہیں اور لگژری سہولتوں میں گھوم رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ملک کے مسلمانوں کے تعلیمی ادارے بند کرائے جا رہے ہیں۔ پون کھیڑا نے کہا کہ اگر کوئی مسلمان کالج میں پڑھتا ہے تو کالج بند کرا دیا جاتا ہے اور اگر اسکول کھلتا ہے تو اسے بھی بند کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت جس تھالی میں بیٹھتی ہے، اسی میں چھید کرتی ہے۔

Published: undefined

پون کھیڑا نے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورآنند کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ حکومت کی تعریف نہیں کرتے بلکہ سوال اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے نیم تیار مندر کی پران پرتشٹھا پر اعتراض کیا، مہاکمبھ میں بدانتظامی پر آواز اٹھائی اور کووڈ کے دوران گنگا میں تیرتی لاشوں کی حقیقت بیان کی۔ کھیڑا نے کہا کہ یہی سچ ہے کہ نریندر مودی نہ کام کے ہیں اور نہ رام کے ہیں۔

انہوں نے وارانسی میں دیوی اہلیابائی ہولکر کی مورتی توڑے جانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اصل مجرموں کے بجائے اس واقعے کو سامنے لانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے ویڈیو کو اے آئی قرار دینے پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اے آئی نہیں بلکہ بے حیائی ہے۔

Published: undefined

پون کھیڑا نے مہاکمبھ اور ماگھ میلے میں مبینہ کُویوستھا پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ شاہی اسنان کی روایت کو نہ انگریزوں نے روکا، نہ مغلوں نے، لیکن موجودہ حکومت نے اسے روک کر اپنی نیت ظاہر کر دی۔ انہوں نے موہن بھاگوت کو دی جانے والی زیڈ پلس سیکورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہ شنکراچاریہ سے بڑے ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاکمبھ میں امیروں کے لیے الگ انتظامات تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حکومت کے لیے آستھا بھی کاروبار ہے۔

پون کھیڑا نے کہا کہ شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورآنند کے ساتھ ہونے والے سلوک سے پورا ملک دکھی ہے، لیکن حکومت بے حس بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اس معاملے میں مداخلت کریں، ورنہ حکومت کو سناتنی نہیں بلکہ دھناتنی کہا جائے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined