
آئی اے این ایس
نئی دہلی: پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے ہفتہ کو بین الاقوامی گینگسٹر انمول بشنوئی کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں مزید سات دن کی توسیع کر دی ہے۔ سکیورٹی خطرات کے پیش نظر عدالت نے اس معاملے کی کارروائی پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے بجائے این آئی اے ہیڈکوارٹر کے کمپلیکس میں انجام دی۔ اگلی سماعت 5 دسمبر کو مقرر ہے، جس کے دوران تفتیشی ایجنسی مزید پیش رفت عدالت کے سامنے رکھے گی۔
Published: undefined
این آئی اے کے وکیل راہل تیاگی نے بتایا کہ اب تک کی پوچھ گچھ میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن پر پیش رفت کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر عدالت نے سات دن کی اضافی تحویل منظور کی۔ ایجنسی نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ انمول بشنوئی کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اسی لیے کارروائی این آئی اے کے احاطے میں کی گئی تاکہ غیر معمولی سکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق، ابتدائی ریمانڈ کے دوران انمول بشنوئی نے اپنے نیٹ ورک، سرگرم ساتھیوں، غیر ملکی رابطوں اور مختلف مقامات سے چلنے والی کارروائیوں کے بارے میں کئی معلومات فراہم کی ہیں۔ این آئی اے کو امید ہے کہ اگلے چند دنوں میں مزید اہم سراغ ملیں گے، خاص طور پر اس کے فنڈنگ چین اور بیرونِ ملک سے ملنے والی ہدایات کے بارے میں۔
Published: undefined
خیال رہے کہ 19 نومبر کو امریکہ سے ڈی پورٹ ہونے کے فوراً بعد انمول کو دہلی اترتے ہی این آئی اے نے گرفتار کر لیا تھا۔ اسے ابتدائی طور پر اسے 11 دن کی حراست میں دیا گیا تھا، حالانکہ ایجنسی نے 15 دن کی ریمانڈ کی درخواست کی تھی۔ انمول 2022 سے مفرور تھا اور این آئی اے کی موسٹ وانٹڈ لسٹ میں شامل تھا، جبکہ اس پر 10 لاکھ روپے کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔
نومبر 2024 میں اسے کیلیفورنیا کے سیکرامینٹو میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں ایف بی آئی نے ڈی این اے اور وائس سیمپل کے ذریعے اس کی شناخت کی۔ اس کے بعد ڈی پورٹیشن کارروائی چلتی رہی۔
Published: undefined
مارچ 2023 میں این آئی اے نے لارنس بشنوئی اور گولڈی برار گینگ کے دہشت گرد-گینگسٹر سازش کیس میں 1200 صفحات کی چارج شیٹ میں انمول کو اہم ملزم قرار دیا تھا۔ تفتیش کے مطابق وہ امریکہ میں بیٹھ کر ہندوستان میں وارداتوں کی منصوبہ بندی کرتا تھا، شوٹروں کو اسلحہ، پناہ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتا تھا۔ بابا صدیقی قتل کیس کی سازش میں بھی اس کا نام سامنے آیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined