قومی خبریں

محمد شامی کی ٹیم انڈیا میں واپسی کی راہیں مسدود، چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کے جانے کے بعد بھی نہیں ملا موقع

شامی 9 مارچ 2025 کے بعد سے ہندوستانی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔ اس دوران انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کے ہر فارمیٹ میں حصہ لیا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی فارم اور فٹنس کا ثبوت دیا۔

محمد شامی، تصویر آئی اے این ایس
محمد شامی، تصویر آئی اے این ایس 

ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کی سلیکشن کمیٹی نے جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کے خلاف 5  ون ڈے اور 2  ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ہندوستانی ٹیم کا اعلان کر دیا۔ تجربہ کار تیز گیند باز محمد شامی کو ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اجیت اگرکر کی چیف سلیکٹر کے طور پر مدت کار ختم ہونے کے بعد پرگیان اوجھا کو عبوری چیف سلیکٹر بنایا گیا تھا۔ پرگیان نے عبوری چیف سلیکٹر کی حیثیت سے نیوزی لینڈ ٹی 20  سیریز کے لیے اپنی پہلی ٹیم کو منظوری دی۔ اس ٹیم میں سب سے حیران کن نام بھونیشور کمار کا تھا۔

36 سالہ بھونیشور کمار کی 4  سال بعد ٹیم انڈیا میں واپسی ہوئی تھی۔ انہیں ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچویں ٹی 20  میچ کے لیے بھی زخمی ارشدیپ کی جگہ ٹیم انڈیا میں شامل کر لیا گیا ہے اور امکان ہے کہ وہ پلیئنگ الیون کا حصہ ہوں گے۔ بھونیشور کمار کی واپسی سے تجربہ کار تیز گیند باز محمد شامی کی ٹیم انڈیا میں واپسی کی امید بھی جاگی تھی۔ شامی 9 مارچ 2025  (چیمپئنز ٹرافی فائنل) کے بعد سے ہندوستانی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔ اس دوران انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کے ہر فارمیٹ میں حصہ لیا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی فارم اور فٹنس کا ثبوت دیا۔ وہ اب بھی رنجی ٹرافی کھیل رہے ہیں۔ فارم اور فٹنس کے باوجود اجیت اگرکر کی سربراہی والی سلیکشن کمیٹی نے شامی کو مسلسل نظر انداز کیا۔ اس دوران بھونیشور کمار کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ فارم اور فٹنس کے باوجود وہ ٹیم انڈیا سے باہر رہے۔

پرگیان اوجھا کے عبوری چیف سلیکٹر بننے کے بعد پہلی ٹیم میں ہی بھونیشور کمار شامل تھے۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے شامی کی ہندوستانی ٹیم میں واپسی کے امکانات بڑھ گئے تھے، خاص طور پر جسپریت بمراہ کی عدم موجودگی میں ان کا انتخاب یقینی سمجھا جانے لگا تھا۔ لیکن جمعہ کے روز جب نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم انڈیا کا اعلان ہوا تو شامی کا نام ایک بار پھر غائب تھا۔ شامی نے جون 2023  کے بعد سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا ہے۔ محمد شامی کے نام کو ایک بار پھر نظر انداز کیا جانا کہیں نہ کہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ سلیکٹرز اب ان سے آگے بڑھ چکے ہیں اور انہیں اگلے ون ڈے ورلڈ کپ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل نہیں سمجھ رہے ہیں۔

زخمی پرسدھ کرشنا ٹیم میں شامل ہیں، جبکہ نوجوان انشول کمبوج، یش ٹھاکر اور عاقب نبی کو ٹیم میں منتخب کیا گیا ہے۔ ان گیند بازوں کی کارکردگی ایسی نہیں رہی ہے کہ انہیں شامی پر ترجیح دی جائے۔ انہیں تجربے کی ضرورت ہے، جو وقت کے ساتھ حاصل ہوگا۔ ورلڈ کپ 2027 میں اب تقریباً ایک سال کا وقت باقی ہے۔ اس کے باوجود ون ڈے فارمیٹ میں گیند بازوں کا انتخاب جس بھی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے، وہ مایوس کن اور کمزور ہے۔ اس ٹیم میں محمد سراج موجود ہیں اور جسپریت بمراہ بھی واپس آ جائیں گے، لیکن شامی کی کمی کوئی دوسرا گیند باز پوری نہیں کر سکتا۔ شامی کیا کر سکتے ہیں، یہ ہم ورلڈ کپ 2023  میں دیکھ چکے ہیں۔ ان کی جو صلاحیت ہے، وہ جنوبی افریقہ کے حالات میں مزید مہلک ثابت ہوگی۔ اس کے باوجود 108 ون ڈے میچوں میں 206  وکٹیں حاصل کر چکے اور ورلڈ کپ 2023  میں 7 میچوں میں24  وکٹیں لینے والے شامی کو نظر انداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔