’روس سے تیل اور گیس خریدنے پر ہندوستان سمیت 5 ممالک کو ٹیرف سے راحت‘، ٹرمپ کا بڑا اعلان
ٹرمپ نے قومی مفاد کا حوالہ دیتے ہوئے ’روس اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے سے متعلق ایکٹ‘ کے تحت عائد پابندیوں اور محصولات سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان سمیت 5 ممالک کو روس سے تیل اور گیس خریدنے پر ٹیرف سے راحت دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ کے تحت کیا گیا ہے، جس میں قومی مفاد کے پیش نظر ان ممالک کو چھوٹ دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان 5 ممالک کو روس سے توانائی خریدنے پر کوئی محصول ادا نہیں کرنا ہوگا، جس سے اقتصادی اور توانائی کے تعاون کو فروغ ملے گا۔ چین، ہندوستان، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان ان 5 ممالک میں شامل ہیں۔ امریکی صدر کا یہ ایگزیکٹیو آرڈر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب وہ روس کے تئیں نرم رویہ اپنا رہے ہیں۔ وہیں عوامی سطح پر وہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے قومی مفاد کا حوالہ دیتے ہوئے ’روس اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے سے متعلق ایکٹ‘ کے تحت عائد پابندیوں اور محصولات سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعہ کی شام جاری ایک ایگزیکٹیو آرڈر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’گراہم ایکٹ‘ کے تحت عائد کی جانے والی پابندیوں، قدغنوں اور ٹیرف سے چھوٹ دینے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے حکم نامے میں کہا کہ وہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’گراہم ایکٹ‘ کی دفعہ 115 کے تحت پابندیوں اور ٹیرف کے نفاذ سے چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایگزیکٹیو آرڈر کے مطابق صدر کو اس دفعہ کے تحت کسی غیر ملکی شخص پر پابندیاں عائد کرنے، قدغنیں نافذ کرنے یا ٹیرف لگانے سے چھوٹ دینے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے لیے انہیں امریکی کانگریس کے سامنے ایک تحریری سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوتا ہے، جس میں یہ بتایا جائے کہ چھوٹ دینا قومی مفاد میں ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ چھوٹ امریکہ کے قومی مفاد میں دی جا رہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ وہ کانگریس کو سرٹیفکیٹ سونپ چکے ہیں، جس میں موجودہ حالات میں اس رعایت کو امریکہ کے قومی مفاد میں قرار دیا گیا ہے۔ دراصل 18 ستمبر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ نامی بل پر دستخط کیے تھے۔ یہ بل روس سے زیادہ مقدار میں خام تیل خریدنے والے 5 ممالک کو نشانہ بناتا ہے، جن میں چین، ہندوستان، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان شامل ہیں۔ گزشتہ اگست میں امریکی سینیٹ نے اس بل کو 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور کیا تھا۔ حالانکہ اب ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ روسی تیل خریدنے پر ہندوستان سمیت 5 ممالک پر کوئی ٹیرف نہیں لگے گا۔
