اتر سنگھ بھڑانا قتل معاملہ: چھٹے ملزم کو لیا گیا حراست میں، مفرور ملزمین کی تلاش جاری
پولیس افسران نے بتایا کہ مفرور ملزمین کی گرفتاریوں کے لے کوششیں جاری ہیں۔ راجستھان کے مختلف مقامات کے ساتھ ساتھ ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں بھی ممکنہ اہداف پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی اتر سنگھ بھڑانا کے قتل کے معاملے میں پولیس کی کارروائی مسلسل جاری ہے۔ ویر تھانہ علاقے میں پیش آنے والی اس واردات کے سلسلے میں پولیس نے چھٹے ملزم مکیش کو حراست میں لے لیا ہے، اور پوچھ تاچھ شروع کر دی ہے۔ پولیس نے اب تک اسے مرکزی ملزم کے طور پر نشان زد نہیں کیا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق مفرور ملزمین کی گرفتاری کے لیے راجستھان کے علاوہ ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں بھی تلاشی مہم جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے پولیس کی 30 سے زائد ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔
اس معاملے میں سابق رکن اسمبلی کی اہلیہ کملیش بھڑانا کی شکایت پر 64 نامزد ملزمین سمیت تقریباً 70 سے 80 دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت میں مکیش کا نام بھی شامل ہے۔ پولیس اس سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے، تاکہ قتل معاملے میں اس کا کردار واضح ہو سکے۔ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر پولیس مزید کارروائی کرے گی۔ اس سے قبل پولیس 5 ملزمین کو گرفتار کر چکی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سابق رکن اسمبلی کی لیز کو لے کر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں مکیش کا کردار رہا تھا۔ لیز سے متعلق تنازعہ کے دوران اتر سنگھ بھڑانا اور وہاں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ اس کے کئی بار جھگڑے ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
پولیس ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ حالانکہ مکیش کے کردار کے بارے میں حتمی صورتحال پوچھ تاچھ اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ قتل کے اس معاملے کی تفتیش میں لیز کی جگہ پر نصب سی سی ٹی وی کے ڈی وی آر کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کی فوٹیج سے واردات میں ملوث افراد کی شناخت کرنے اور واقعات کی کڑیاں جوڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔ دستیاب اطلاع کے مطابق ڈی وی آر سابق رکن اسمبلی کی اہلیہ کملیش بھڑانا کے پاس ہے۔ پولیس کو اس کی فوٹیج ملنے پر تفتیش میں اہم سراغ ملنے کی امید ہے۔
پولیس افسران نے بتایا کہ باقی بچے ملزمین کی گرفتاریوں کے لے کوششیں جاری ہیں۔ راجستھان کے مختلف مقامات کے ساتھ ساتھ ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں بھی ممکنہ اہداف پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کام کے لیے 30 سے زیادہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پولیس مکیش سے پوچھ تاچھ کے ساتھ ساتھ دیگر ملزمین کے کردار اور واردات سے وابستہ ثبوتوں کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ تفتیش مکمل ہونے اور سبھی ملزمین کا کردار واضح ہونے کے بعد ہی قتل سے متعلق سارا واقعہ سامنے آئے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
