
کانگریس نے اتوار کے روز کہا کہ پارلیمنٹ کی ایک مستقل کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) اور وزارت تعلیم کی انتہائی نا اہلی اور بے ضابطگیوں کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ ایسے میں امید ہے کہ مودی حکومت اپنے باقی ماندہ مختصر دور اقتدار میں تکبر چھوڑے گی اور اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لے گی۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ ’این ٹی اے میں اصلاحات اور اسے مضبوط بنانا‘ کے عنوان سے تعلیم سے متعلق پارلیمانی مستقل کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بالکل جھوٹا دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2017 میں این ٹی اے کے قیام سے لے کر2025 تک اس کے ذریعے منعقد کیے گئے کسی بھی امتحان کا سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا کہ راجیہ سبھا کے رکن مکل واسنک کی صدارت والی تعلیم سے متعلق پارلیمانی مستقل کمیٹی کی رپورٹ این ٹی اے اور وزارت تعلیم کی انتہائی نااہلی اور بے ضابطگیوں کی تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال خبروں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش چھائے ہوئے ہیں، لیکن 3 ماہ پہلے این ٹی اے ہی کی وجہ سے نوجوانوں کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ ہمارا یہ بیان تعلیم سے متعلق پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کی رپورٹ پر مبنی ہے۔ یہ رپورٹ ابھی ابھی راجیہ سبھا کے چیئرمین کو سونپی گئی ہے۔
رپورٹ کی 6 اہم باتوں کا ذکر کرتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ وزارت تعلیم نے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے سراسر جھوٹا اور انتہائی ڈھٹائی بھرا دعویٰ کیا کہ2017 میں این ٹی اے کے قیام سے لے کر 2025 تک اس کے ذریعے منعقد کیے گئے کسی بھی امتحان کا سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق این ٹی اے کے ذریعے منعقد کیے گئے امتحانات میں سوالیہ پرچے لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے 9 معاملے سامنے آچکے ہیں۔ جب وزارت تعلیم گڑبڑیوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کر رہی ہے، تو آخر منصفانہ جانچ یا جواب دہی کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟
جے رام رمیش نے کہا کہ این ٹی اے، سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ، 1860 کے تحت ایک سوسائٹی کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ یہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ کسی قانون کے تحت قائم کی گئی قانونی حیثیت رکھنے والی تنظیم نہیں ہے۔ اس وجہ سے این ٹی اے کے کام کاج پر پارلیمنٹ کی نگرانی محدود رہتی ہے اور اپنے کام کاج کے لیے این ٹی اے کی جواب دہی بھی کم ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ این ٹی اے کو ایک کھوکھلی تنظیم کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جو اپنی تمام اہم ذمہ داریاں نجی ٹھیکیداروں کے حوالے کر دیتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ این ٹی اے میں صرف39 منظور شدہ عہدے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اسے امتحانات منعقد کرنے کے لیے نجی ٹھیکیداروں پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔
جے رام رمیش نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ این ٹی اے میں منظور شدہ 39 عہدوں میں سے فی الحال صرف 23 عہدوں پر افسران کام کر رہے ہیں۔ یعنی 41 فیصد عہدے خالی ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت ہے، جب کے رادھا کرشنن کمیٹی نے این ٹی اے میں ملازمین کی تعداد بڑھانے پر خصوصی زور دیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ این ٹی اے کا ڈھانچہ اور طریقۂ کار شفاف نہیں ہے اور اس سے سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے والے مافیا کو فروغ ملتا ہے۔ تعلیم سے متعلق پارلیمانی مستقل کمیٹی کی بار بار کی گئی سفارشات کے باوجود ملک بھر میں ایسی کمپنیوں کو ’بلیک لسٹ‘ کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، جن کا سوالیہ پرچے تیار کرنے، لاجسٹکس، پرنٹنگ اور امتحانات کے انعقاد جیسی خدمات میں خراب کارکردگی کا ریکارڈ رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ایک ریاست میں بلیک لسٹ کی گئی کمپنی کو دوسری ریاستوں میں باقاعدگی سے سرکاری ٹھیکے مل جاتے ہیں۔ جے رام رمیش نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے برعکس این ٹی اے نیٹ-یو جی کے نتائج کو عوامی طور پر قابل رسائی طریقے سے شائع نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی اے اب منافع کمانے والا ایک کاروبار بن گیا ہے۔ این ٹی اے نے مجموعی طور پر 590 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی کی۔ طلباء کی مدد کرنے یا امتحانات سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے بجائے، اس رقم کو سود کمانے کے لیے فکسڈ ڈپازٹ کر دیا گیا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ سابق وزیر دھرمیندر پردھان نے این ٹی اے میں اصلاحات سے متعلق پارلیمانی مستقل کمیٹی کی سابقہ سفارشات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ کمیٹی میں اپوزیشن کے ارکان بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ مودی حکومت اپنی باقی ماندہ مختصر مدت کار میں اپنا تکبر ترک کرے اور اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لے۔ نیٹ-یوجی کے سوالیہ پرچے لیک ہونے اور امتحان منسوخ کیے جانے کے بعد این ٹی اے کے کردار کی جانچ کر رہی پارلیمانی مستقل کمیٹی نے جمعہ کے روز ایجنسی کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے تئیں جواب دہی یقینی بنانے کے لیے ایک قانونی نظام وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔