’شہر میں بیریکیڈز ہٹائے جائیں، انٹرنیٹ سروس بحال ہو‘، سپریم کورٹ کی دہلی پولیس کو ہدایت
جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا کہ میٹرو اور ریل خدمات معمول کے مطابق چلنی چاہئیں اور انٹرنیٹ خدمات قانون کے مطابق بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنی چاہئیں۔

سپریم کورٹ نے اتوار(11 اکتوبر) کو ہوئی ایک خصوصی سماعت کے دوران راجدھانی دہلی میں بیریکیڈز ہٹانے اور انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کی ہدایت دی۔ احتجاج کے درمیان دہلی پولیس کی پابندیوں کے خلاف دائر عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس میں خلل نہ ڈالا جائے اور ٹریفک قوانین کے مطابق آمد و رفت یقینی بنائی جائے۔
واضح رہے کہ عرضی گزاروں نے دہلی پولیس کی اس کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کے تحت ہفتہ (10 اکتوبر) کو راجدھانی میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد اور اپوزیشن جماعتوں کے کئی لیڈران (جن میں سابق وزیر اعلیٰ بھی شامل ہیں) کو حراست میں لیا گیا تھا۔ عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا کہ میٹرو اور ریل خدمات معمول کے مطابق چلنی چاہئیں اور انٹرنیٹ خدمات قانون کے مطابق بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنی چاہئیں اور لوگوں کے ساتھ ٹریفک کی آمد و رفت کی بھی اجازت ہو۔
عدالت نے ہدایت دی کہ میٹرو اور ریل خدمات معمول کے مطابق جاری رہنی چاہئیں، جب تک کہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر پابندیاں عائد کرنا ضروری نہ ہو۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ امن و امان اور ٹریفک کی دیگر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بیریکیڈز لگانے کے فیصلے پر فوری طور پر نظرثانی کی جائے۔ عدالت نے افسران کو ہدایت دی کہ سپریم کورٹ کے آس پاس کے علاقے میں دفعہ 163 کے نفاذ سے متعلق بورڈ ہٹا دیے جائیں۔ ایسا اس لیے کیا جائے تاکہ انصاف تک رسائی، جس میں کسی بھی عدالت میں آنے جانے کی سہولت بھی شامل ہے، کے حوالے سے کوئی خدشہ باقی نہ رہے۔
سپریم کورٹ نے افسران سے کہا کہ غیر قانونی حراست نہیں ہونی چاہیے اور حراست صرف قانون کے مطابق ہی کی جائے۔ بنچ نے ہدایت دی کہ دفعہ 163 کی حدود سے باہر پرامن اور غیر مسلح طور پر جمع ہونے والے لوگوں کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔ تمام فریقوں کو سننے اور توہین عدالت کی عرضی میں دیے گئے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے توہین عدالت کے مرتکب افراد کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے توہین عدالت کی عرضی کے جواب میں حلف نامہ داخل کرنے اور مذکورہ حکم کے مطابق تعمیل کی رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت دی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ آج جن دیگر غیر فہرست شدہ عرضیوں کا ذکر کیا گیا ہے، انہیں توہین عدالت کی کارروائی کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
