دہلی میں احتجاج کے باعث 2 ہزار کروڑ روپے کا کاروبار متاثر، سی ٹی آئی کا دعویٰ

چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے کہا ہے کہ صرف 10 اکتوبر کو دہلی میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے تاجروں کا تقریباً 2000 کروڑ روپے کا کاروبار ٹھپ ہو گیا۔

احتجاجی مظاہرہ، علامتی تصویر
i

قومی راجدھانی دہلی میں ہفتہ کے روز ہوئے احتجاج کا اثر چہار جانب نظر آرہا ہے۔ احتجاج کے باعث دہلی کے تاجروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ دہلی اور ملک بھر کے تاجروں اور صنعت کاروں کی اعلیٰ تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے کہا ہے کہ صرف 10 اکتوبر کو دہلی میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے تاجروں کا تقریباً 2000  کروڑ روپے کا کاروبار ٹھپ ہو گیا۔

دہلی میں جاری احتجاج کی وجہ سے دہلی کے تاجروں کو ہونے والے نقصان کے سلسلے میں سی ٹی آئی نے سی جے پی کے ساتھ ہی دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو بھی خط لکھا ہے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تہواروں کا موسم ہے، اس لیے دیوالی تک دہلی میں کوئی دھرنا یا احتجاج نہ کیا جائے۔ سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے کہا ہے کہ آج سے نوراتری اور رام لیلاؤں کا آغاز ہو رہا ہے اور دیوالی بھی قریب ہے، لیکن اس طرح کے احتجاج سے دہلی کا کاروبار اور معیشت درہم برہم ہو جائے گی۔


سی ٹی آئی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ تہواروں کا موسم شروع ہو چکا ہے اور یہ دہلی کے 20 لاکھ تاجروں کے لیے سال کا سب سے بڑا کاروباری موسم ہوتا ہے۔ دھرنے اور احتجاج سے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور اگر یہ احتجاج طویل عرصے تک جاری رہا تو دہلی کی معیشت پوری طرح درہم برہم ہو جائے گی۔ دہلی کے لاکھوں تاجروں کا کاروبار تباہ ہو جائے گا۔ احتجاج کو دیوالی تک ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سی ٹی آئی نے بتایا کہ دہلی میں آج سے رام لیلاؤں کا بھی آغاز ہو رہا ہے۔ یہاں650 رام لیلائیں منعقد کی جاتی ہیں، جن سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ اگر احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے راستے اور میٹرو اسٹیشن بند رہیں گے، تو لوگ رام لیلاؤں میں آنے سے گریز کریں گے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ اس احتجاج کو ملتوی کیا جائے، تاکہ تہواروں کے موسم میں کاروبار کو نقصان سے بچایا جا سکے اور عوام کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

قابل ذکر ہے کہ احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے دہلی کے اہم بازار بند رہے، جس میں صدر بازار، چاندنی چوک، چاوڑی بازار، کناٹ پلیس، قرول باغ اور لاجپت رائے مارکیٹ جیسے بڑے بازار شامل ہیں، جبکہ دیگر بازاروں میں بھی کاروبار نہ ہونے کے برابر رہا۔ احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے باہری صارفین نے دہلی کا رخ نہیں کیا۔ واضح رہے کہ باہری علاقوں سے روزانہ 3 سے 4 لاکھ افراد خریداری کے لیے آتے ہیں، لیکن وہ دہلی نہیں آئے۔ مقامی صارفین بھی احتیاط کے طور پر گھروں سے نہیں نکلے۔ سیکورٹی اور ٹریفک جام کے خدشے کی وجہ سے دہلی والے بھی خریداری کے لیے گھروں سے باہر نہیں نکلے۔ میٹرو اسٹیشن بند ہونے کی وجہ سے بھی تاجروں کو کافی نقصان ہوا۔ زیادہ تر اہم میٹرو اسٹیشن بند رہے، جس کی وجہ سے آمد و رفت ٹھپ ہو گئی۔


سروس سیکٹر پر بھی خاصہ اثر پڑا ہے۔ پیٹرول پمپوں پر بھی بھیڑ نہیں تھی۔ ہوٹلوں، ریستورانوں، سنیما ہالوں، بیوٹی پارلروں اور سیلون میں بکنگ منسوخ ہو گئی۔ سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے کہا ہے کہ سی جے پی کے احتجاج سے صرف ریٹیل کاروبار ہی نہیں، بلکہ سروس سیکٹر، ہاسپیٹیلٹی سیکٹر، ٹرانسپورٹ اور سیاحت سمیت مجموعی طور پر 10  اکتوبر کو دہلی میں2000  کروڑ روپے کا کاروبار متاثر ہوا۔ انہوں نے سی جے پی سے اپیل کی ہے کہ دیوالی تک دہلی میں دھرنا اور احتجاج نہ کیا جائے، بلکہ اس کے بجائے کسی دوسرے شہر کا انتخاب کر لیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔