
منوج جھا/تصویر آئی اے این ایس
راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے ہندوستان-امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدے پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ نے ٹیرف کو 2.9 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کیا تھا اور اب 50 فیصد سے کم کر کے ٹیرف کو 18 فیصد پر لایا گیا ہے، جبکہ اس بات پر ہندوستان میں حکومت جشن منا رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اصل میں یہ اجتماعی تشویش کا معاملہ ہونا چاہیے۔
Published: undefined
نیوز ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات چیت میں منوج جھا نے کہا کہ ’’مرکزی کابینہ کی اجتماعی ذمہ داری کو ختم کر دیا گیا ہے۔ سوال وزیر خارجہ سے پوچھا جاتا ہے تو وہ وزیر تجارت کا نام لیتے ہیں اور وزیر تجارت اس سوال کو وزیر خارجہ کے پاس بھیج دیتے ہیں۔‘‘ آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ تجارتی معاہدہ پر حکومت کو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے اور نکاتی فہرست جاری کرنی چاہیے، کیونکہ خدشات کو حکومت بے بنیاد ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ منوج جھا نے روپے کی گرتی ہوئی قیمت پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ آج کابینہ کے 2 وزراء کی عمریں جمع کر لی جائیں، تب بھی روپیہ اس سے نیچے جا چکا ہے۔
Published: undefined
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے تبصرے پر منوج جھا نے کہا کہ ’’آج کل ایسے لوگ بھی تاریخ اور تاریخی حوالوں پر بیان دیتے ہیں، جنہوں نے ’واٹس ایپ‘ کے ذریعہ ہی اپنا مستقبل اور حال دیکھا ہے۔‘‘ آر جے ڈی لیڈر کے مطابق جب ہندو کی بات ہوتی ہے تو موہن بھاگوت کو بتانا چاہیے کہ سیور میں اتر کر زہریلی گیس سے مرنے والا کون ہے؟ کیا وہ ہندو نہیں ہے؟ وہ شخص کیوں آپ کی فکر میں شامل نہیں ہے؟ اگر وہ شخص آپ کی فکر کا حصہ نہیں ہے تو واضح ہے کہ آپ نے تضادات سے منہ موڑ لیا ہے۔
Published: undefined
اس درمیان منوج جھا نے پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ اور کانگریس لیڈر پپو یادو کی گرفتاری پر بھی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس گرفتاری کے وقت کے بارے میں سوال اٹھایا۔ آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ مقدمہ تقریباً 35 سال پرانا ہے اس میں اتنی کیا جلدی تھی کہ جب نیٹ طالبہ کی موت پر بہار کے لوگ مشتعل ہیں اور اس درمیان گرفتاری ہوتی ہے؟ منوج جھا نے کہا کہ اس پورے معاملے میں وقت ہی اہم ہو چکا ہے۔ کیا یہ خاموش کرانے کی کوشش ہے؟
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined