قومی خبریں

پاکستانی شہری سیما حیدر سے نوئیڈا کے اے ٹی ایس دفتر میں دوسرے دن بھی پوچھ گچھ

ذرائع کا یہ دعویٰ ہے کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سیما حیدر کے پاکستان میں موجود رابطوں کے ذریعے اس کی مکمل پروفائل کا پتہ لگا رہی ہے۔ اس کے گھر اور خاندان کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ انسٹاگرام</p></div>

تصویر بشکریہ انسٹاگرام

 

نوئیڈا: پاکستان سے ہندوستان آنے والی خاتون سیما حیدر سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ یوپی اے ٹی ایس سچن کے والد کو ربوپورہ میں واقع ان کے گھر سے لے کر آئی تھی اور پیر 17 جولائی کو اے ٹی ایس کے دفتر میں ان سے پوچھ گچھ کی گئی، پھر دیر رات انہیں گھر چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد آج اے ٹی ایس سیما کو لے کر نوئیڈا کے سیکٹر 58 میں اے ٹی ایس دفتر لے کر گئی۔ جہاں اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔

Published: undefined

سیما کو گھر سے اٹھانے کے بعد یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ اے ٹی ایس سیکٹر 94 میں واقع اس کے دفتر پہنچ جائے گی لیکن ٹیم اسے سیکٹر 58 میں واقع اپنے دفتر لے گئی۔ جہاں اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اے ٹی ایس کی ٹیم کے پاس کئی سوالات ہیں جن کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان میں سرحد کے قریب سے ملنے والا موبائل سم کارڈ اور اس کے ہندوستان آنے کا روٹ میپ شامل ہے۔

Published: undefined

بتایا جا رہا ہے کہ اے ٹی ایس مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر سیما کی پاکستان سے یوپی منتقلی اور اس کے رابطے کی جانچ کر رہی ہے۔ اے ٹی ایس مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پاکستان سے دبئی اور پھر نیپال کے راستے ہندوستان جانے کے پورے نیٹ ورک کی جانچ کر رہی ہے۔ سیما نے ہندوستان آنے پر کن موبائل نمبروں کا استعمال کیا، اس کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔

Published: undefined

ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سیما حیدر کے پاکستان میں موجود رابطوں کے ذریعے اس کی مکمل پروفائل کا پتہ لگا رہی ہے۔ اس کے گھر اور خاندان کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ سیما کے چچا کے پاکستانی فوج میں صوبیدار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سیما کا بھائی بھی پاکستانی فوج میں ہے۔ ایسے میں تفتیشی اداروں کو شبہ ہے کہ سیما حیدر کا پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے کوئی تعلق تو نہیں ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined