تصویر سوشل میڈیا
گجرات کے معروف روزنامہ ’گجرات سماچار‘ کے مالک باہوبلی شاہ کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاری کے فوراً بعد ان کی طبیعت خراب ہو گئی جس کے بعد انہیں احمد آباد کے وی ایس اسپتال لے جایا گیا، لیکن انہوں نے نجی اسپتال میں علاج کروانے کی خواہش ظاہر کی، جس پر بعد میں انہیں زائیڈس اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
باہوبلی شاہ اور ان کے بھائی شریانس شاہ ’گجرات سماچار پبلی کیشنز گروپ‘ کے مشترکہ مالک ہیں، جس کا آغاز 1932 میں ہوا تھا۔ میڈیا کے علاوہ باہوبلی شاہ 15 سے زائد کاروباری اداروں سے بھی وابستہ ہیں۔
Published: undefined
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 13 مئی کی صبح انکم ٹیکس کی ٹیم نے دونوں بھائیوں کے مختلف دفاتر اور رہائشی مقامات پر چھاپے مارے۔ بعد ازاں ای ڈی کی ٹیم بھی وہاں پہنچ گئی اور مختلف مقامات پر تلاشی کے بعد باہوبلی شاہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد سے اس کارروائی کو لے کر سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل دیکھی گئی ہے۔
گجرات کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا رکن شکت سنگھ گوہل نے شاہ کی گرفتاری پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شاہ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی۔ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں گوہل نے کہا، ’’سچ کے لیے کھڑے ہونے کی سزا دینا بی جے پی کا مزاج بن چکا ہے۔ ’گجرات سماچار‘ نے حال ہی میں ہند-پاکستان کشیدگی کے معاملے پر حکومت کو آئینہ دکھایا تھا۔‘‘
Published: undefined
انہوں نے مزید کہا کہ چند ہفتے قبل جب شاہ کے احاطوں پر چھاپے مارے گئے تھے، تب ان کا خاندان والدہ اسمرتی بین کی وفات کے سوگ میں تھا۔ باہوبلی شاہ نہ صرف ایک بزرگ شہری ہیں بلکہ کئی سنگین طبی مسائل سے بھی دوچار ہیں۔ گوہل نے اس گرفتاری کو میڈیا کی آزادی پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ تمام میڈیا ’گودی میڈیا‘ نہیں ہوتا جو حکومت کے کہنے پر چلے۔
ادھر، اسی دوران ’گجرات سماچار‘ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ (ایکس/ٹوئٹر) بھی بلاک کر دیا گیا۔ اس واقعے پر تاحال ریاستی حکومت یا ای ڈی کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ گرفتاری ایسے وقت پر ہوئی ہے جب حکومت پر پہلے ہی میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں اور اس سے ملک میں صحافت کی خودمختاری پر ایک بار پھر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined