قومی خبریں

انتخابی حلف نامہ میں معلومات چھپانے پر عام شہری بھی کر سکیں گے شکایت: سپریم کورٹ

عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 125-اے ان امیدواروں کے لیے سزا کا التزام کرتی ہے جو اپنے کاغذات نامزدگی یا انتخابی حلف ناموں میں غلط معلومات دیتے ہیں یا لازمی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

ووٹرس کو اب انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے ساتھ ہی امیدوار کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ کوئی بھی عام ووٹر یا شہری انتخابی امیدواروں کے خلاف براہ راست مجرمانہ شکایت درج کرا سکتا ہے۔ اگر کوئی امیدوار انتخابات کے وقت جمع کرائے گئے حلف نامے میں غلط معلومات دیتا ہے یا ضروری معلومات چھپاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یہ کارروائی عوامی نمائندگی ایکٹ، 1951 کی دفعہ 125-اے کے تحت کی جا سکتی ہے۔ اس شکایت کے لیے الیکشن کمیشن یا کسی سرکاری افسر کی اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کوڈ آف کریمنل پروسیجر (سی آر پی سی) کی دفعہ 195 کی شرائط لاگو نہیں ہوتیں، جس کے باعث عام شہری براہ راست شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ، 1951 کی دفعہ 125-اے کے تحت جرم (جس میں امیدوار کی جانب سے جھوٹا حلف نامہ داخل کرنا بھی شامل ہے) کے خلاف دائر کی گئی ذاتی شکایت قانونی طور پر قابل قبول ہے۔ اس کے لیے سی آر پی سی کی دفعہ 195 (بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا میں دفعہ 215) کے تحت کسی سرکاری ملازم کی جانب سے شکایت درج کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 125-اے ان امیدواروں کے لیے سزا کا التزام کرتی ہے جو اپنے کاغذات نامزدگی یا انتخابی حلف ناموں میں غلط معلومات دیتے ہیں، حقائق چھپاتے ہیں یا لازمی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

سی آر پی سی کی دفعہ 195 بعض مخصوص جرائم کا نوٹس لینے کے معاملے میں عدالت پر پابندی عائد کرتی ہے۔ اس کے مطابق عدالت ان جرائم کا نوٹس اس وقت تک نہیں لے سکتی جب تک کسی مجاز اتھارٹی کی جانب سے تحریری شکایت درج نہ کرائی جائے۔ یعنی عام پولیس رپورٹ یا ذاتی شکایت کی بنیاد پر ان جرائم کا نوٹس نہیں لیا جا سکتا۔ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے کہا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 195 عدالت کو صرف انہی جرائم کا نوٹس لینے سے روکتی ہے جن کا اس دفعہ میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ چونکہ عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 125-اے میں شامل نہیں ہے، اس لیے عدالتیں اس پابندی کو خود بخود اس جرم پر لاگو نہیں کر سکتیں۔

دراصل سپریم کورٹ کی بنچ راج کمار مڈکی کی جانب سے دائر اپیل پر سماعت کر رہی تھی۔ یہ اپیل کرناٹک ہائی کورٹ کے 7 مارچ 2025 کے اس فیصلے کے خلاف تھی، جس میں ہائی کورٹ نے کرناٹک کے رکن اسمبلی ڈاکٹر شیلندر بیلڈالے کے خلاف ان کی شکایت خارج کر دی تھی۔ بنگلورو میں ایک ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے سی آر پی سی کی دفعہ 200 کے تحت دائر شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 2023 میں بیدر اسمبلی حلقے سے منتخب ہونے والے بیلڈالے نے اپنے نامزدگی کے کاغذات کے ساتھ جمع کرائے گئے حلف نامے میں اپنے رہائشی پتے کے بارے میں غلط معلومات دی تھیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔