وہی خالق، وہی مالک، وہی پروردگارِ عالم...ایف اے مجیب
مضمون میں توحید کے تصور کو عقل و دلیل کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ کائنات کی تخلیق، نظامِ قدرت اور انسانی زندگی پر غور کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ حقیقی خالق، مالک اور معبود صرف ایک ہے

انسان جب آسمان کی وسعت، زمین کی خوب صورتی، سورج کی روشنی، بارش کے نزول اور زندگی کے حیرت انگیز نظام پر غور کرتا ہے تو اس کے دل و دماغ میں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: یہ سب کس نے پیدا کیا؟ اس زمین کو کس نے بنایا جس پر ہم چلتے ہیں؟ اس آسمان کو کس نے بلند کیا جس کے نیچے ہماری زندگی گزرتی ہے؟ سورج کو روشنی، پانی کو زندگی اور بیج کے اندر ایک پورا درخت بننے کی صلاحیت کس نے دی؟ وہ کون ہے جس کے بنائے ہوئے نظام میں انسان بھی سانس لیتا ہے اور بے شمار مخلوقات بھی اپنے اپنے حصے کی زندگی گزارتی ہیں؟ ان سوالوں کے جواب میں بہت سے انسانوں کی زبان سے بے اختیار نکلتا ہے: وہیاللہ! خدائے واحد! ایشور! وہی پروردگارِ عالم! نام الگ الگ ہو سکتے ہیں، زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن جب بات اس ہستی کی ہو جو پوری کائنات کی خالق، مالک اور پرورش کرنے والی ہے تو انسان کا ذہن ایک ایسی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس کے اختیار میں سب کچھ ہے۔
اب ذرا اسی جواب پر غور کیجیے۔ اگر زمین و آسمان کا خالق وہی ہے، زندگی دینے والا وہی ہے اور پوری کائنات کا نظام اسی کے اختیار میں ہے تو کیا اس کے علاوہ بھی کوئی ایسی ہستی ہے جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہو؟ اگر کوئی دوسرا خالق ہے تو اس نے کیا پیدا کیا؟ اور اگر اس نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا تو اسے خالق کیوں کہا جائے؟ کیا محض عقیدت، محبت یا روایت کی بنیاد پر کسی کو کائنات کا خالق مان لینا عقل کے لیے کافی ہے؟ فرض کیجیے، کوئی کہتا ہے کہ خدائے واحد ہی سب کا خالق ہے، مگر اس کے ساتھ کچھ دوسری ہستیاں بھی ایسی ہیں جو اپنی مستقل طاقت سے کائنات کے معاملات چلاتی ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ ان ہستیوں کو یہ طاقت کہاں سے ملی؟ اگر انہیں یہ اختیار اسی پروردگار نے دیا ہے تو وہ خود اسی کے محتاج ہوئے؛ پھر وہ اس کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور اگر ان کا اختیار کسی کے عطا کیے بغیر خود ان کا اپنا ہے تو اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ جو ہستی خود کسی کی محتاج نہ ہو، سب کی خالق ہو اور سب پر اختیار رکھتی ہو، اس کے برابر کسی دوسری ہستی کو ماننے کی بنیاد کیا ہے؟
ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ بارش ہوتی ہے تو زمین میں زندگی جاگ اٹھتی ہے، پانی کھیتوں تک پہنچتا ہے، بیج پھوٹتا ہے اور فصل تیار ہوتی ہے۔ اس عمل میں بادل، ہوا، پانی، مٹی، سورج اور بیج سب اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن کیا ان سب کے کردار الگ الگ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان سب کو اس پورے نظام کا مستقل خالق بھی مان لیا جائے؟ اسباب کا ہونا ایک بات ہے اور ان اسباب کو وجود دینے والے کو ماننا دوسری بات۔ کسی وسیلے سے فائدہ اٹھانا اور اس وسیلے کو خدائی اختیار کا مالک سمجھنا ایک جیسی باتیں نہیں ہیں۔ یہی فرق انسانوں کے معاملے میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم والدین سے محبت کرتے ہیں، استاد کا احترام کرتے ہیں، کسی نیک انسان سے دعا کی درخواست کرتے ہیں اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد لیتے ہیں۔ ان باتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ لیکن کسی سے محبت یا عقیدت رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے کائنات کا مالک یا ایسی مستقل قدرت کا حامل مان لیا جائے جو صرف پروردگارِ عالم کے شایانِ شان ہے۔ احترام اپنی جگہ، خالق و معبود کا مقام اپنی جگہ۔
ایک اور سوال پر غور کیجیے۔ اگر کائنات کا نظام چلانے والی کئی ہستیاں الگ الگ اور خودمختار ہوں تو ان کے اختیار کی حدود کون طے کرتا ہے؟ اگر ایک کی مرضی دوسری کے فیصلے سے رک سکتی ہے تو پھر دونوں میں سے کوئی بھی کامل اختیار کا مالک نہیں۔ اور اگر کسی کی مرضی کسی سے نہیں رک سکتی تو پھر ہر ایک کے لیے مطلق اختیار ماننے کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ زیادہ معقول نہیں کہ پوری کائنات کا آخری اختیار اسی ایک پروردگار کے پاس ہو جس کے سامنے ہر مخلوق محتاج ہے؟
یہاں اصل مقصد کسی کے مذہبی نام یا خاندانی روایت پر اعتراض کرنا نہیں، بلکہ اپنے عقیدے کی بنیاد کو سمجھنا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے گھر، خاندان اور معاشرے سے عقائد حاصل کرتے ہیں۔ یہ فطری بات ہے۔ لیکن کیا کسی بات کا پرانی روایت ہونا ہی اس کے سچ ہونے کی دلیل ہے؟ اگر ایک عقیدہ حقیقت ہے تو اسے سوال، غور و فکر اور دلیل کی روشنی میں بھی درست ثابت ہونا چاہیے۔ سچائی کو سمجھنے کے لیے ذہن کھلا رکھنا اور اپنے مانے ہوئے تصورات پر غور کرنا کمزوری نہیں، شعور کی علامت ہے۔
توحید کا پیغام یہی ہے کہ جس ہستی کو ہم پوری کائنات کا خالق، مالک اور حقیقی پروردگار مانتے ہیں، اسی کو اپنی بندگی کا مستحق بھی سمجھیں۔ ناموں کا اختلاف ہمیں اس بنیادی سوال سے دور نہ کر دے کہ اصل خالق کون ہے اور کامل اختیار کس کے پاس ہے۔ جب دل و دماغ اس حقیقت کو پہچان لیں کہ پوری کائنات کا پروردگار ایک ہے تو انسان کے لیے اگلا قدم یہ ہے کہ وہ اپنے عقیدے، اپنی عبادت اور اپنی زندگی میں بھی اسی حقیقت کو جگہ دے۔ وہی خالق، وہی مالک، وہی پروردگارِ عالم — بندگی بھی اسی ایک کے لیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
