
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار / آئی اے این ایس
راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک نیا نوٹس جمع کرا دیا ہے، جس پر ایوانِ بالا کے 73 ارکان کے دستخط درج ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل پیش کیے گئے نوٹس کو مسترد کیا جا چکا تھا، جس کے بعد اپوزیشن نے مزید تفصیل اور دستاویزی بنیادوں کے ساتھ اپنی کوشش کو آگے بڑھایا ہے۔
Published: undefined
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹس آئینِ ہند کے متعلقہ دفعات کے تحت جمع کرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق نوٹس میں آئین کے آرٹیکل 324(5) کے ساتھ آرٹیکل 124(4)، نیز چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری، خدمات کی شرائط اور مدتِ کار سے متعلق قانون 2023 اور ججوں کی جانچ کے قانون 1968 کا حوالہ دیا گیا ہے۔
Published: undefined
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ گیانیش کمار کے خلاف اب نو مخصوص الزامات موجود ہیں، جنہیں تفصیل کے ساتھ دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کو آسانی سے رد یا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ معاملہ آئینی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے پر رہتے ہوئے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایات کے مطابق کام کر رہے ہیں، جو کہ جمہوری اداروں کی خود مختاری کے لیے نقصان دہ ہے۔
Published: undefined
اس سے پہلے بھی اپوزیشن نے 12 مارچ کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں نوٹس جمع کرایا تھا، جس پر لوک سبھا کے 130 اور راجیہ سبھا کے 63 ارکان کے دستخط تھے۔ تاہم 6 اپریل کو راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن اور لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اس نوٹس کو مسترد کر دیا تھا۔ اس مستردی کے بعد اپوزیشن نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے نئے شواہد اور تفصیل کے ساتھ ایک تازہ نوٹس پیش کیا ہے۔
Published: undefined
پہلے نوٹس میں بھی اپوزیشن نے گیانیش کمار پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ انتظامیہ کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خصوصی گہری نظرثانی کی کارروائی کے ذریعے بڑی تعداد میں ووٹروں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل نے انتخابی شفافیت اور جمہوری اصولوں پر سوال کھڑے کیے ہیں۔
نیا نوٹس جمع کرائے جانے کے بعد اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اس بار اسے منظور کیا جاتا ہے یا ایک بار پھر مستردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ اقدام پارلیمانی سطح پر ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined