ایم ایل سی نہیں، پھر بھی وزیرکیسے؟ دیپک پرکاش کی تقرری پر بہار حکومت، الیکشن کمیشن اور متعلقہ فریق کو سپریم کورٹ کا نوٹس

عرضی گزار راکیش کمار سنگھ نے دلیل دی کہ دیپک پرکاش اسمبلی یا قانون ساز کونسل کے رکن نہیں ہیں اس لیے ریاستی حکومت کی وزارت میں کوئی عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔

<div class="paragraphs"><p>دیپک پرکاش، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

سپریم کورٹ نے بہار کے پنچایتی راج وزیر دیپک پرکاش کے وزارتی عہدے پر دوبارہ تقرری کو چیلنج کرنے والی عرضی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس بہار حکومت، دیپک پرکاش اور الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے ہیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے پوچھا کہ کیا وہ اب بھی وزیر ہیں؟ اس پر درخواست گزار نے جواب دیا کہ ہاں، اب بھی ہیں۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے پیر کو ایک رٹ پٹیشن پر یہ نوٹس جاری کئے جس میں دیپک پرکاش کو بطور ایم ایل اے یا ایم ایل سی منتخب ہوئے بغیر بہار کا پنچایتی راج وزیر دوبارہ بنائے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

عرضی گزار راکیش کمار سنگھ نے دلیل دی کہ دیپک پرکاش اسمبلی یا قانون ساز کونسل کے رکن نہیں ہیں اس لیے ریاستی حکومت کی وزارت میں کوئی عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل (4)164 کے مطابق کوئی شخص جو ممبر اسمبلی نہیں ہے، وہ لگاتار 6 ماہ تک وزیر رہ سکتا ہے لیکن اس مدت کے دوران اسے ریاستی مقننہ کی رکنیت حاصل کرنا ہوگی۔ یہ استثنیٰ صرف ایک بار ملنے والا موقع ہے اور حکومت بدلنے پر اسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔


درخواست کے مطابق پرکاش کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 20 نومبر 2025 کو وزیر مقرر کیا تھا جبکہ وہ اسمبلی کے رکن نہیں تھے۔ 15 اپریل 2026 کو نتیش کمار کی حکومت گر گئی، جس کے نتیجے میں کابینہ تحلیل ہو گئی۔ 22 دنوں کے وقفے کے بعد 7 مئی کو وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں نئی ​​حکومت نے پرکاش کو پھر سے وزیر کے طور پر مقرر کردیا۔ 20 نومبر 2025 کو ان کی پہلی تقرری سے دوبارہ انتخاب کے لیے 6 ماہ کی مدت 20 مئی 2026 کو ختم ہو گئی۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ ایسی صورتحال میں دوبارہ تقرری کرکے انہیں اضافی وقت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا یہ بھی استدلال ہے کہ بغیر منتخب کئے گئے افراد کو بار بار وزیر مقرر کرنے کی اجازت دینا پارلیمانی جمہوریت، نمائندہ حکومت، اجتماعی ذمہ داری اور انتخابی جوابدھی کے اصولوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پیر کو سماعت کے دوران درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے بہار حکومت، دیپک پرکاش اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا۔