قومی خبریں

مغربی بنگال میں انتخابی ڈیوٹی پر مامور افسران کے نام ووٹر فہرست سے غائب، سپریم کورٹ نے سماعت سے کیا انکار

مغربی بنگال میں انتخابی ڈیوٹی پر تعینات 65 افسران کے نام ووٹر فہرست سے ہٹا دیے گئے۔ سپریم کورٹ نے درخواست پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرنے کی ہدایت دی

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

مغربی بنگال میں جاری انتخابی عمل کے درمیان ایک غیر معمولی اور تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں انتخابی ڈیوٹی پر مامور متعدد افسران نے شکایت کی ہے کہ ان کے نام ووٹر فہرست سے غائب کر دیے گئے ہیں۔ اس معاملے نے انتخابی شفافیت اور انتظامی عمل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ جن افراد کو انتخابی عمل کو مکمل کرانے کی ذمہ داری دی گئی، وہی اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو گئے۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق، یہ معاملہ 65 ایسے افسران سے متعلق ہے جو انتخابی ڈیوٹی میں دن رات مصروف رہے۔ ان افسران نے عدالت میں دائر اپنی عرضی میں کہا کہ جب ووٹنگ کا وقت آیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے نام ووٹر فہرست میں موجود ہی نہیں ہیں۔ یہ صورتحال ان کے لیے حیران کن تھی کیونکہ وہ خود انتخابی عمل کا حصہ تھے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے تھے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ایم آر شمشاد نے عدالت کو بتایا کہ ان تمام افسران کے ڈیوٹی آرڈر پر ان کے ووٹر شناختی نمبر درج ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ انہیں ووٹر مانتی ہے اور اسی بنیاد پر انہیں انتخابی ڈیوٹی پر تعینات کرتی ہے، تو پھر ان کے نام ووٹر فہرست سے ہٹانا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔

Published: undefined

وکیل نے مزید کہا کہ ان افسران کو نہ تو کوئی پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی ان کے نام حذف کیے جانے کی کوئی وجہ بتائی گئی۔ بغیر کسی نوٹس کے اس طرح کا اقدام نہ صرف انتظامی لاپروائی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ انتخابی نظام کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ ان افسران نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے اور ان کے نام فوری طور پر ووٹر فہرست میں بحال کیے جائیں۔

تاہم، سپریم کورٹ نے اس معاملے میں فوری مداخلت سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ درخواست گزاروں کو پہلے متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ وہاں اس معاملے کی تفصیلی جانچ ہو سکے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مناسب فورم پر جانے کے بعد ہی اس طرح کے معاملات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

جسٹس جوئے مالیا باگچی نے بھی اس بات کی تائید کی اور کہا کہ اپیلیٹ ٹریبونل اس معاملے میں مناسب حکم جاری کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ عندیہ دیا کہ موجودہ انتخاب میں ممکن ہے کہ یہ افسران اپنا ووٹ نہ ڈال سکیں، لیکن ان کا ووٹر فہرست میں برقرار رہنے کا حق محفوظ رکھا جائے گا۔

یہ معاملہ نہ صرف متعلقہ افسران کے لیے بلکہ پورے انتخابی نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن کر سامنے آیا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں انتخابی عمل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined