نوجوانوں کے ہاتھ میں ڈگریاں، مگر روزگار ندارد: ڈاکٹر نریش کمار
کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے بڑھتی بے روزگاری، سرکاری بھرتیوں میں تاخیر اور پرچہ لیک کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خالی آسامیوں کو پُر کرنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا مطالبہ کیا

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے ملک میں بڑھتی بے روزگاری، روزگار کے محدود ہوتے مواقع اور پرچہ لیک کے بڑھتے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مہنگی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نوجوانوں کو ملازمت نہ ملے تو ایسی تعلیم اور ڈگریوں کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ آج ملک میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو رہے۔ انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا ان کے آس پاس، رشتہ داروں یا پڑوس میں کسی نوجوان کو حالیہ برسوں میں سرکاری ملازمت ملی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں کوئی نوجوان بے روزگار نہ ہو، حالانکہ تقریباً ہر گھر میں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال تقریباً 18 سے 20 لاکھ انجینئر تعلیم مکمل کرتے ہیں، جبکہ بی اے، بی کام، بی ٹیک، ایم ٹیک اور قانون سمیت مختلف شعبوں سے فارغ التحصیل ہونے والے لاکھوں نوجوان ملازمت کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ان کے مطابق والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے بڑی قربانیاں دیتے ہیں، بعض اوقات زمین، جائیداد یا گھر تک فروخت کر دیتے ہیں، لیکن روزگار نہ ملنے کی وجہ سے ان کے خواب ٹوٹ رہے ہیں اور نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ لاکھوں نوجوان عملہ انتخاب کمیشن، یونین پبلک سروس کمیشن، ریلوے، پولیس اور مختلف ریاستی خدمات کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، مگر کبھی پرچہ لیک ہو جاتا ہے اور کبھی بھرتی کے عمل میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی زندگی کا قیمتی وقت تیاری اور انتظار میں گزر جاتا ہے۔ ان کے مطابق پرچہ لیک اب ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکا ہے اور حکومتوں کی بے توجہی نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متواتر افرادی قوت سروے کے مطابق سال 2025 میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 9.9 فیصد رہی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 13.6 فیصد تک پہنچ گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گریجویٹ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 25.9 فیصد اور پوسٹ گریجویٹ نوجوانوں میں 32.2 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کے دور حکومت میں 2011-12 کے دوران یہ شرح تقریباً 2.2 فیصد تھی۔
ڈاکٹر نریش کمار نے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری خالی آسامیوں پر بروقت تقرریاں کی جائیں، نئے کارخانے اور صنعتیں قائم کی جائیں، روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں اور پرچہ لیک کے معاملات میں سخت اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا نوجوان روزگار، مواقع اور اپنے مستقبل کے بارے میں اعتماد چاہتا ہے، اس لیے حکومت کو بے روزگاری کے مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔
