الہ آباد ہائی کورٹ پہنچا لکھنؤ کوچنگ آتشزدگی کا معاملہ، سکیورٹی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ

عرضی میں شاپنگ کمپلیکس اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ممکنہ آتشزدگی جیسی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کو لے کر ایک تفصیلی گائیڈ لائن جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

لکھنؤ میں پیش آئے دردرناک کوچنگ آتشزدگی کا معاملہ اب الٰہ آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ ایڈوکیٹ گورو دویدی نے ہائی کورٹ میں ایک مکتوب درخواست داخل کی ہے اور چیف جسٹس سے عرضی پر نوٹس لے کر ضروری ہدایات ضروری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں حفاظتی معیارات کو نظر انداز کرنے اور من مانی کرنے پر سوال اٹھائے گئے ہیں، جس میں کوچنگ اداروں کے ساتھ ساتھ کثیر منزلہ عمارتوں کی سیکورٹی انتظامات سے متعلق سوالات بھی شامل ہیں۔

عرضی میں شاپنگ کمپلیکس اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ممکنہ آتشزدگی جیسی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کو لے کر ایک تفصیلی گائیڈ لائن جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی آگ جیسے واقعات کی اطلاع پر فوری ایکشن پلان تیار کرنے کے لیے بھی ضروری ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ عرضی داخل کرنے والے ایڈوکیٹ گورو دویدی نے اس معاملے میں کہا کہ جس طرح سے ریاست میں مسلسل آتشزدگی کے معاملات سامنے آ رہے ہیں اس میں انتظامی نظام کی ناکامی صاف نظر آ رہی ہیے۔


ایڈوکیٹ گورو دویدی نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے انہیں کوچنگ اداروں میں پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں، لیکن حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے ایک ہی بار میں کئی خاندانوں کی خوشیاں اجڑ جاتی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بڑی تعداد میں کوچنگ ادارے ایسے مکانات میں چل رہے ہیں جہاں ضرورت پڑنے پر آگ سے بچاؤ کے لیے کافی انتظامات نہیں ہیں۔ کئی ادارے تو بیسمنٹ میں ہی چل رہے ہیں، جہاں آگ لگنے پر باہر نکلنے کے لیے ایمرجنسی ایگزٹ جیسی بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں 22 جون کی دوپہر ایک کمرشیل بلڈنگ میں آگ لگنے کی وجہ سے 16 سال سے 25 سال کی عمر کے 15 بچوں کی دردناک موت ہو گئی۔ آگ بلڈنگ کے اندر لگی اور اتنی تیزی سے پھیلی کہ بچوں کو اندر سے نکلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس واقعہ کی جانچ کے دوران پتہ چلا کہ جس عمارت میں آگ لگی تھی وہ غیر قانونی تھی۔ 2016 میں ہی اس عمارت کو منہدم کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی تھی، لیکن بعد میں اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔


لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وی سی پرتھمیش کمار نے بتایا کہ عمارت کے مالک کو نوٹس جاری کیا گیا ہے اور 15 روز میں جواب مانگا گیا ہے۔ اس کے بعد عمارت پر بلڈوزر چلے گا اور اسے منہدم کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب اس اندوہناک حادثہ کے بعد ریاست بھر میں موجود کوچنگ اور ہوٹلوں میں زبردست چھاپے ماری چل رہی ہے۔ اب تک 45 سے زائد ان کوچنگ اداروں اور ہوٹلوں کو سیل کیا گیا ہے، جس میں آگ سے بچاؤ کے کافی انتظامات نہیں تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔