قومی خبریں

اوڈیشہ میں سیلاب کی صورت حال سنگین، 7 اضلاع کے 1703 گاؤں اور 13.44 لاکھ افراد متاثر

اوڈیشہ کے سات اضلاع میں سیلاب سے 1703 گاؤں اور 13.44 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ 4.87 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ 880 امدادی کیمپوں میں سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>

تصویر آئی اے این ایس

 

اوڈیشہ میں سیلاب کی صورت حال بدستور سنگین بنی ہوئی ہے اور ریاست کے سات اضلاع میں 1700 سے زائد گاؤں اور 13 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کا کام مسلسل جاری ہے، جبکہ صورت حال پر 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔

خصوصی راحتی کمشنر کے دفتر کے تحت قائم اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق بالیشور، مایور بھنج، بھدرک، جاجپور، کیندوجھڑ، کیندرپاڑہ اور سندر گڑھ اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان اضلاع کے 76 بلاک، 505 گرام پنچایتیں، 1703 گاؤں اور 12 شہری بلدیاتی ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر 13,44,698 افراد سیلاب کی صورت حال سے متاثر ہوئے ہیں۔

ریاستی حکومت کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں مایور بھنج، بالیشور، بھدرک، جاجپور، کیندرپاڑہ اور کیندوجھڑ میں صورت حال زیادہ چیلنجنگ رہی۔ تاہم تازہ صورت حال میں ریاست کے اہم دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور بیشتر دریا خطرے کے نشان سے نیچے بہہ رہے ہیں۔

حکام کے مطابق اب تک 4,87,350 افراد کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ان افراد کو 880 امدادی کیمپوں میں رکھا گیا ہے، جہاں ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں مفت کچن بھی مسلسل چلائے جا رہے ہیں اور اب تک 4,95,833 افراد کو پکا ہوا کھانا فراہم کیا گیا ہے۔ ضرورت کے مطابق خشک راشن اور دیگر امدادی سامان بھی تقسیم کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں میں 4,765 پولی تھین شیٹس اور رول بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔

بچاؤ اور ہنگامی راحتی کارروائیوں کے لیے مجموعی طور پر 126 ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ ان میں اوڈراف کی 32 ٹیمیں، این ڈی آر ایف کی 8 ٹیمیں، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کی 46 ٹیمیں اور پولیس، سول ڈیفنس و مقامی سطح کی 40 ٹیمیں شامل ہیں۔ امدادی ٹیمیں اب تک سیلاب کی وجہ سے رابطے سے منقطع 492 گاؤں تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ 124 افراد کو ہنگامی طبی انخلا کے ذریعے محفوظ مقامات تک منتقل کیا گیا ہے۔

ریلیف اور ریسکیو آپریشن کے لیے 210 کشتیوں اور خصوصی آلات کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صحت کی خدمات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے 93 طبی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں اور 159 میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں اب تک 11,549 افراد کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔

حکام کے مطابق حاملہ خواتین کی دیکھ بھال پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اب تک 150 حاملہ خواتین کو صحت مراکز منتقل کیا گیا ہے، جبکہ 44 خواتین کے محفوظ ادارہ جاتی زچگیاں کرائی گئی ہیں۔

ریاستی حکومت نے بتایا کہ ضروری ادویات، سانپ کے کاٹنے کے علاج کے لیے اینٹی اسنیک وینم، او آر ایس اور آئی وی فلوئڈ کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ فی الحال سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کسی بھی بیماری کے پھیلنے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت کے مطابق مزید وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔