عمران خان کا چیک اپ مقررہ اسپتال میں نہیں کرایا گیا، حکومت نے عدالتی حکم کی دھجیاں اڑائیں: بہن عظمیٰ
عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے الزام لگایا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز منتقل کیا اور جیل میں ذہنی اذیت دینے کا بھی الزام عائد کیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے ان کی بہن عظمیٰ خان نے جمعہ کو اہم معلومات فراہم کرتے ہوئے حکومت پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ اسلام آباد میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود عمران خان کا طبی معائنہ مقررہ نجی اسپتال میں نہیں کرایا۔
عظمیٰ خان نے الزام لگایا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کو حکومت کے اشارے پر ذہنی طور پر پریشان کیا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ مبینہ طور پر ’ظلم‘ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جانے کی ہدایت دی تھی، لیکن انہیں اس کے بجائے سرکاری زیر انتظام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کو حکومت کو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جانے کی ہدایت دی تھی۔ جمعرات کی رات اسپتال کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ عمران خان کو وہیں طبی معائنے کے لیے لایا جائے گا، تاہم وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعہ کو تصدیق کی کہ انہیں پمز منتقل کیا گیا۔
عظمیٰ خان نے بتایا کہ انہیں جمعرات کو اڈیالہ جیل پہنچنے کے لیے فون کیا گیا تھا۔ جیل پہنچنے کے بعد انہوں نے وہاں موجود پولیس افسر سے متعدد سوالات کیے، لیکن انہیں کسی سوال کا واضح جواب نہیں دیا گیا۔ بعد ازاں انہیں گاڑی میں پمز لے جایا گیا۔ انہوں نے پمز میں اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ’چاروں طرف اندھیرا تھا‘۔ عظمیٰ کے مطابق انہیں ایک دفتر میں لے جایا گیا، جہاں ایک شخص نے راستہ دکھانے کے لیے موبائل فون کی ٹارچ کا استعمال کیا۔
عظمیٰ خان نے بتایا کہ اس کے بعد ان کی ملاقات عمران خان سے ہوئی۔ ان کے مطابق عمران خان انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے اور ملاقات کے دوران بار بار یہی کہتے رہے کہ ان کے ساتھ ’ظلم‘ کیا گیا ہے۔
عمران خان کی صحت سے متعلق سوال پر عظمیٰ نے کہا کہ ان کا بلڈ پریشر معمول پر ہے اور ان کی بینائی میں بھی بہتری آئی ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ابھی معمولی خون بہنے کی شکایت باقی ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ افریدی نے بھی پریس کانفرنس میں حکومت اور انتظامیہ کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین ججوں کے فیصلے کو ’کچرے کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا‘ اور یہ اقدام عدالت کی توہین کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب پاکستان بھر کے ججوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرائیں گے یا پھر عدالتیں بند کر دیں گے۔ افریدی نے عدالتوں سے معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لینے کی اپیل بھی کی۔
