
قبائلی طالبہ نشا پونے میں راہل گاندھی کے سامنے اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے، ویڈیو گریب
مہاراشٹر حکومت نے آدیواسیوں کے لیے مخصوص ہاسٹل میں رہنے کے لیے 30 سال کی عمر والی حد کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس تعلق سے 24 اگست کو لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو ایک خط لکھا تھا۔ اب 2 دن بعد ہی اس کا اثر دیکھنے کو مل گیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت کے ذریعہ 30 سال عمر والی حد ختم کیے جانے کی خبر ملنے پر کانگریس نے اسے قبائلی طلبا کی فتح قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی نے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ بھی جاری کی ہے، جس میں ایک انگریزی روزنامہ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا گیا ہے۔ اس خبر میں قبائلی طلبا کے لیے 30 سال والی حد ختم کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’مہاراشٹر حکومت نے قبائلی ہاسٹل میں رہنے کے لیے 30 سال کی عمر والی حد ختم کر دی ہے۔ ’چھاتروں کی گونج‘ میں مہاراشٹر کی طالبہ نشا نے قبائلی ہاسٹل میں عمر کی حد کو لے کر راہل گاندھی کے سامنے اپنی بات رکھی تھی، جس کے بعد راہل گاندھی نے 24 اگست کو اس معاملہ پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس کو خط لکھا تھا۔‘‘ پارٹی نے مہاراشٹر حکومت کے اس فیصلہ کو قبائلی طلبا کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ نوجوانوں کے اس بھروسہ کی جیت ہے، جو جانتے ہیں کہ راہل گاندھی ہر اس نوجوان کے ساتھ کھڑے ہیں جو آگے بڑھنے کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے۔‘‘
راہل گاندھی کے ذریعہ قبائلی طلبا کی آواز اٹھائے جانے کے بعد مہاراشٹر حکومت کے فیصلوں کو کانگریس بہت اہم قرار دے رہی ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ قبائلی طلبا اپنے مطالبات کو لے کر کئی دنوں سے مظاہرہ کر رہے تھے، لیکن ریاستی حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی تھی۔ راہل گاندھی نے جب آواز اٹھائی تو حکومت کو مجبور ہو کر فوراً 30 سال عمر والی حد کو ختم کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ اس فیصلہ کے بعد کانگریس نے جوشیلے انداز میں کہا ہے کہ ’’اسی لیے تو ہندوستانی نوجوان کہہ رہے ہیں– جب تک ملک میں عوامی ہیرو راہل گاندھی ہیں، طلبا کی آواز کو کوئی نہیں دبا سکتا۔‘‘
واضح رہے کہ راہل گاندھی نے 24 اگست کو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے نام تحریر کردہ خط میں کہا تھا کہ ’’پورے مہاراشٹر کے قبائلی طلبا 10 دنوں سے زائد وقت سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ پونے میں انہوں نے مجھے ان قوانین کے بارے میں بتایا جو ان سے ان کا وقار چھینتے ہیں اور تعلیم کا راستہ بند کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’کئی قبائلی طلبا دور دراز کے گاؤں سے آتے ہیں اور شہروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سرکاری ہاسٹلوں پر منحصر رہتے ہیں۔ ایک نیا قانون 30 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ان ہاسٹلوں میں رہنے سے روکتا ہے، جس کی وجہ سے کئی ایسے طلبا باہر ہو جاتے ہیں جو اب بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔