
دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو
تصویر: پریس ریلیز
نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا ہے کہ آلودگی سے نمٹنے کے لیے ماحولیاتی معاوضہ چارج فنڈ کا 55 فیصد، یعنی 971.8 کروڑ روپے، استعمال نہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت دم گھونٹتی آلودگی کے معاملے میں دہلی والوں کی صحت کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ کے دوران آلودگی پر قابو پانے کے معاملے میں دہلی حکومت نے جس طرح بہانے بازی اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عملی طور پر کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے کہا کہ 4 دسمبر 2025 تک دہلی حکومت نے آلودگی سے لڑنے کے لیے حاصل ہونے والے ماحولیاتی معاوضہ چارج فنڈ کا بڑا حصہ خرچ نہیں کیا، حالانکہ اس مد میں کل 1753.2 کروڑ روپے جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فنڈ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت دہلی کی سرحدوں پر تجارتی گاڑیوں سے وصول کیا جاتا ہے، تاکہ آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت کی عدم حساسیت کے باعث اتنی بڑی رقم غیر استعمال شدہ پڑی رہی، جسے براہ راست آلودگی کنٹرول پر خرچ کیا جانا تھا۔
Published: undefined
کانگریس صدر نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ آلودگی قدرتی طور پر ہوتی ہے اور حکومت اس میں کیا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب موجودہ فنڈ بھی حکومت خرچ نہیں کر پا رہی تو آلودگی کے تئیں اس کی نیت صاف ظاہر ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فضائی معیار نظم و نسق کمیشن نے سپریم کورٹ سے سفارش کی ہے کہ ماحولیاتی معاوضہ چارج اور بلدیاتی ٹول ٹیکس کی شرحوں پر نظر ثانی کی جائے، کیونکہ کئی تجارتی گاڑیاں کم فاصلہ اور ایندھن کی بچت کے لیے دہلی سے گزر کر دوسرے ریاستوں میں جانا پسند کرتی ہیں، جبکہ مشرقی اور مغربی پریفیرل ایکسپریس وے پر زیادہ ٹول دینا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے ٹول اور معاوضہ چارج کی شرحوں کا ازسر نو تعین ضروری ہے، تاکہ دہلی کو زیادہ فنڈ حاصل ہو اور اسے آلودگی کی روک تھام پر خرچ کیا جا سکے۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے کہا کہ 103 دن بعد دہلی کا فضائی معیار اشاریہ 200 سے نیچے آیا ہے، مگر اس میں دہلی حکومت کی کوئی کوشش شامل نہیں ہے۔ ان کے مطابق دہلی اور این سی آر میں بارش کے باعث ایک دن کے لیے ہوا کچھ حد تک صاف ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ فروری 2025 سے اب تک بی جے پی حکومت نے آلودگی کنٹرول کے نام پر کھوکھلی بیان بازی، بے بنیاد دعوے اور فضائی معیار کے اعداد و شمار کو چھپانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ آلودگی کنٹرول کے لیے مختص 1885 کروڑ روپے کے بجٹ میں یمنا کی صفائی اور ایک ہزار کروڑ روپے کی الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری بھی شامل تھی، مگر پورے سال الیکٹرک بسیں سڑکوں پر لانے کے بجائے چھوٹی ڈیزل بسیں چلائی جاتی رہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر الیکٹرک بسیں ماحولیات کے بجٹ میں شامل ہیں تو ڈی ٹی سی کے بجٹ کو پھر کس مد میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے الزام لگایا کہ گرین کور بڑھانے کے نام پر صرف کاغذی کارروائی کی گئی، جبکہ درخت لگانے کے معاملے میں ڈی ڈی اے کے ذریعے کروڑوں روپے کے ضیاع کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکھا گپتا حکومت آلودگی کنٹرول میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے، کیونکہ ماحولیاتی معاوضہ چارج اور بلدیاتی ٹول ٹیکس سے جمع ہونے والی رقم کا بڑا حصہ خرچ نہ ہونا حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق آلودگی کے بڑے اسباب، تینوں لینڈ فل سائٹس، ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں بنایا گیا اور ٹوٹی سڑکوں و گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی پر قابو پانے کے لیے عوامی نقل و حمل کا نظام پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے، جس کے باعث دہلی ایک گیس چیمبر میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined