
تصویر اے آئی
ہندوستان میں ’آن لائن گیمنگ‘ کی دنیا اب پوری طرح بدلنے والی ہے۔ حکومت نے ’آن لائن گیمنگ (ترغیب اور ضابطہ) ایکٹ 2025‘ کے تحت نئے قوانین کو منظوری دے دی ہے۔ یہ قوانین یکم مئی سے نافذ ہو جائیں گے۔ اس قدم کے بعد اب گیمنگ کمپنیوں اور کھلاڑیوں کے لیے ایک مضبوط نظام تیار ہو گیا ہے، جو اس انڈسٹری کو نئی سمت دے گا۔
Published: undefined
نئے قوانین کی سب سے بڑی اور راحت والی بات یہ ہے کہ سوشل گیمز کے لیے رجسٹریشن کو ’رضاکارانہ‘ رکھا گیا ہے۔ یعنی ایسے گیمز بغیر کسی پیشگی رجسٹریشن کے اپنا کام شروع کر سکتے ہیں۔ تاہم، حکومت نے ایک حفاظتی جانچ کا نظام بھی رکھا ہے۔ آن لائن گیمنگ اتھارٹی آف انڈیا (او جی اے آئی) کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی گیم کی خود جانچ کر سکے۔ اگر حکومت کو لگتا ہے کہ کسی گیم سے لت پیدا ہو رہی ہے، اس میں بہت زیادہ پیسہ شامل ہے یا اس کا ملک سے کوئی مشتبہ تعلق ہے، تو وہ اس گیم کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دے سکتی ہے۔
Published: undefined
میڈیا رپورٹس کے مطابق یکم مئی سے او جی اے آئی مکمل طور پر کام شروع کر دے گی۔ اس میں کل 6 اراکین ہوں گے، جس کی قیادت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری کے ہاتھ میں ہوگی۔ خاص بات یہ ہے کہ وزارت داخلہ کو بھی اس میں کل وقتی رکن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں مالیات، اطلاعات و نشریات، کھیل اور قانون کی وزارتوں کے جوائنٹ سکریٹریز بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ ساتھ ہی اب گیمنگ سرٹیفکیٹ کی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کر دی گئی ہے، جس سے کمپنیوں کو بار بار کاغذی کارروائی نہیں کرنی پڑے گی۔
Published: undefined
حکومت نے یہ قوانین 2500 سے زیادہ افراد اور کمپنیوں سے رائے لینے کے بعد تیار کیے ہیں۔ اس میں سائبر سیکورٹی، ڈاٹا کے تحفظ اور منصفانہ کھیل پر خاص زور دیا گیا ہے۔ ای-اسپورٹس کے حوالے سے قوانین کو کافی آسان بنا دیا گیا ہے۔ اب کھیل کی وزارت اور اطلاعات و نشریات کی وزارت اس کے لیے اپنی الگ پالیسیاں بنا سکیں گی۔ ماہرین کے مطابق اس قدم سے ہندوستان کو ’عالمی گیمنگ مرکز‘ بننے میں مدد ملے گی۔ اس سے نہ صرف گیمنگ کمپنیوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ ویڈیو گیمنگ کو تفریح اور کہانی سنانے کے ایک بڑے پلیٹ فارم کے طور پر پہچان ملے گی۔
Published: undefined
آن لائن گیمنگ کے لیے نئے قانون کو منظوری دے کر حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا مقصد کاروبار کو آسان بنانا ضرور ہے، لیکن صارفین کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ سٹہ بازی اور جوا سے متعلق ویب سائٹس کے خلاف پہلے ہی کارروائی کی جا رہی ہے اور تقریباً 300 ایسے لنکس کو بلاک کیا جا چکا ہے۔ اب ’پرائز‘ اور ’بیٹ‘ کے فرق کی بنیاد پر یہ طے کیا جائے گا کہ کون سا گیم درست ہے اور کون سا نہیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined